رسالت و نبوت

سیرت کی ویڈیو منظر کشی میں حضور ﷺ کا نام آنے پر تصویر دکھانے سے توہین رسالت کا حکم

فتوی نمبر :
98073
| تاریخ :
2026-08-02
عقائد / ایمان و کفر / رسالت و نبوت

سیرت کی ویڈیو منظر کشی میں حضور ﷺ کا نام آنے پر تصویر دکھانے سے توہین رسالت کا حکم

رئیس دار الافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہ، کراچی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ، محترم حضرت مفتی صاحب!
عرض ہے کہ ایک اہم ترین مسئلہ دریافت کرنا ہے۔ پیشگی معذرت کہ سوال طویل ہے، لیکن پورا پس منظر آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ عرض یہ ہے کہ
ایک مذہبی پس منظر رکھنے والے محترم نے یوٹیوب پر سیرۃ النبی ﷺ کے مقدس ترین موضوع پر ویڈیو سیریز کا آغاز کیا ہے، اس کی تعارفی ویڈیو میں کفارِ مکہ کے مظالم کی منظر کشی اے آئی سے بنی تصاویر اور ویڈیوز سے کی گئی۔ کفارکے مظالم کی منظر کشی کے بعد یہ جملہ کہا گیاکہ”اس سسکتی ہوئی انسانیت کو آخر کس چیز کی تلاش تھی، اور پھر تاریخِ انسانی نے وہ ”صبح“ دیکھی جس کا انتظار زمین و آسمان صدیوں سے کر رہے تھے۔ مکہ کی وادیوں میں ”ایک ایسا نور اٹھا“ جس نے نہ صرف عرب کے سنگلاخ پہاڑوں کو روشن کیا، بلکہ رہتی دنیا تک کے لیے کائنات کے ہر ہر ذرے کو جگمگا دیا۔“
جب یہ الفاظ کہے گئے ”مکہ کی وادیوں میں ایک ایسا نور اٹھا“۔عین اسی لمحے اسکرین پر یہ منسلکہ تصویر دکھائی گئی۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ عمل شانِ رسالتؐ کے مناسب ہے یا نامناسب؟ کیا یہ حضور پُرنورﷺ کی توہین نہیں ہے؟جب ان محترم سے اس بارے میں بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ”نور آسمان میں ہے، یہ تو مکہ کا کوئی شہری اسے دیکھ رہا ہے۔“ جب کہ اس موقع پر بولا گیا مکمل جملہ یہ ہے ”مکہ کی وادیوں میں ایک ایسا نور اٹھاجس نے نہ صرف عرب کے سنگلاخ پہاڑوں کو روشن کیا، بلکہ رہتی دنیا تک کے لیے کائنات کے ہر ہر ذرے کو جگمگا دیا۔ “ظاہر ہے کہ ولادتِ نبویؐ کے وقت آسمان پر جو روشنی تھی اس نے تو رہتی دنیا تک کے لیے کائنات کے ہر ہر ذرے کو نہیں جگمگایا، بلکہ وہ نورِ نبوت ہے جو آج تک موجود ہے اور رہتی دنیا تک کائنات کو جگمگاتا رہے گا؟محترم موصوف کے مطابق ان کا مقصد توہینِ رسالت نہیں ہے، لیکن کیا اس سے توہینِ رسالت کا شائبہ نہیں ہوتا؟ کیا یہ عمل شانِ نبویؐ کے مناسب ہے کہ عہدِ رسالت کی اس طرح اشخاص کے ساتھ منظر کشی کی جائے ؟
یہ تعارفی ویڈیو ہے، اے آئی کی مدد سے بنی تصاویر اور ویڈیوز پر مشتمل سیریز کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے، جس کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ اس کو اپنے اہل خانہ اور خصوصاً بچوں کو ضرور دکھائیں،کہ یہ سیرت النبیﷺ کو سمجھنے میں معاون ہوں گی۔ اس کے علاوہ اتنے عظیم اور اہم ترین موضوع کو بیان کرنے میں ستر کھلی تصویر، خواتین کے بے پردہ جسم (چہرے، بال اور بازو وغیرہ) دکھانے (اگرچہ اے آئی کی مدد سے بنائے ہوں) جیسے قبیح امور بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ابھی اس نئے سلسلے کا آغاز ہو رہا ہے، اس لیے آپ سے مؤدبانہ عرض ہے کہ تمام امور کو سامنے رکھتے ہوئے رہنمائی فرمائیں کہ :1۔ اس طرح کی ویڈیو سیریز بنانا شرعاً کیسا ہے؟ 2۔ جو نورانی شخص عین اس لمحے دکھایا گیا، کیا یہ شانِ نبویؐ کے مناسب ہے یا اس سے نعوذ باللہ شبیہ کا شائبہ ہوتا ہے؟3۔ اگر بالفرض آئندہ ویڈیوز میں خواتین کو شامل نہ کیا جائے تب بھی عہدِ نبویؐ کی اے آئی سے یوں منظر کشی کا شرعاً کیا حکم ہے؟
سات منٹ کی اس تعارفی ویڈیو کا لنک یہ ہے۔ https://www.youtube.com/watch?v=NzudT8UjH1E اس میں 2:50 منٹ پر وہ نورانی شخص دکھایا گیا ہے۔
مسئلہ دریافت کرنے کی غرض صرف یہ ہے کہ اگر یہ عمل شرعاً نامناسب ہے تو خود بھی اس سے دور رہا جائے اور عوام الناس کو بھی اس سے دور رکھنے کی حتی الوسع کوشش کی جائے۔ نیز ویڈیو بنانے والے محترم تک بھی اس کا شرعی حکم پہنچایا جائے۔
امید ہے بلالومۃ لائم، شریعتِ محمدیؐہ کا حکم بالکل واضح فرما کر امتِ محمدیہؐ پر احسانِ عظیم فرمائیں گے۔ جزاکم اللہ خیرا واحسن الجزاء
براہ کرم تحریری جواب کی تصویر ارسال فرما دیجیے گا۔ اگر ربیع الاول کی آمد سے قبل جواب مرحمت فرما دیں تو بہت نوازش۔ والسلام

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے سوال کو بغور پڑھا گیا اور انہوں نے جو لنک بھیجا ہے اسے کھول کر غور سے بار بار دیکھا اور سنا گیا اور جس مقام کی سائل نے نشان دہی کی ہے اسے بھی بغور دیکھا اور سنا گیا لیکن ہمیں ایسا کچھ نظر نہیں آیا کہ ویڈیو بنانے والے نے کسی شخص کو(العیاذ باللہ) بطورِ تمثیل، حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پیش کیا ہو بلکہ اس مقام پر نظر آنے والا شخص تو منتظرِ نورِ ہدایت کے طور پر دکھایا گیا ہے ۔البتہ نورِ ہدایت کی تمثیل کے طور پر پہاڑ سے نکلنے والی ایک روشنی دکھائی گئی ہے۔
جہاں تک اسلامی تعلیمات خاص طور پر انبیاءِ کرام اور مقدس شخصیات کے واقعات اور سیرت کو فلمی انداز سے( چاہے وہ اے آئی کی ٹیکنالوجی کے ذریعے کیوں نہ ہو )پیش کرنے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں ہمارے دارالافتاء سے جاری ہونے والا فتویٰ ذیل میں نقل کیا جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو:
”حضرات انبیاءِ کرام علیہم السلام، اولیاءِ عظام ،و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے واقعات کی مصور فلم بنانا ،دیکھنا ،دکھانا ہر گز جائز نہیں ، بلکہ ان بزرگ و مقدس شخصیات کی توہین و بے حرمتی کی بناء پر اس عمل میں شدید و بال کا اندیشہ ہے ، اس کی بہت سی وجوہات ہیں ،جن میں سے چند یہ ہیں:
(۱) قرآن کریم کے مضامین اور ان بزرگ شخصیات کے واقعات جس عظمت و جلال کے حامل ہیں، اس کا تقاضا یہ ہے کہ انکو اصل الفاظ میں پورے ادب و احترام کے ساتھ پڑھا اور سنا جائے ، اس کے برعکس پیشہ ور اداکاروں ، بہروپیوں کو مقدس و مسلمہ شخصیات کی مصنوعی شکل میں پیش کرکے ان سے عظیم واقعات کی نقالی کرانا ،آیات قرآنی کو کھیل تماشا بنانے کے مترادف ہے ، جو بہ نصِ قرآنی حرام ہے ، آیت یہ ہے۔
قال اللہ تعالی: ﴿وَ ذَرِ الَّذِینَ اتَّخَذُوا دِینہمْ لعبا وَلہوًا وَغَرَّتہمُ الحیاۃ الدُّنیا وَ ذَکرْ بہ أنْ تبسلَ نفسٌ بِما کسبتْ لیسَ لہا منْ دُونِ اللَّہ وَلی وَلَا شفِیعٌ وَ انْ تعْدِلْ کلَّ عدْلٍ لَا یؤْخذْ منہا أولئک الَّذینَ ابسلوا بما کسبوا لہمْ شرَابٌ منْ حمِیمٍ وَعذَابٌ ألِیمٌ بما کانوا یکفُرُونَ﴾ (الأنعام:آیت 70)۔
2۔ کوئی فلم جانداروں کی تصویر وں سے خالی نہیں ہوتی ، اور جانداروں کی تصاویر بنانا ، دیکھنا اور دکھلانا شرعاً جائز نہیں ، لہذا مذکور قرآنی مضامین اور صحابہ و اولیاء اللہ کے واقعات کو ایسے ذرائع سے پیش کرنا جو درجنوں احادیث کی رو سے ناجائز ہے ، نہ صرف حرام ،بلکہ قرآن کریم اور ان پاکیزہ شخصیات کی توہین کے مترادف ہے ۔
3۔ واقعات کی فلم اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس میں عورتوں کے کردار نہ ہوں ، چنانچہ مذکور فلموں میں بھی یقینی طور پر ان کے کردار موجود ہیں ، اور خواتین کیلۓ بے حجاب مردوں کے سامنے آنا یا اُ ن کی تصاویر کا بلاضروت نامحرموں کو دکھلانا قرآن و حدیث کی رو سے بالکل ناجائز ہے ، اور ناجائز کام کو مضامینِ قرآنی بیان کرنے کیلۓ ذریعہ بنانا بھی نہ صرف حرام، بلکہ معاذ اللہ آیاتِ قرآنی اور ان بزرگ شخصیات کی توہین کے مترادف ہے۔
4۔ فلم کا اصل منشاء تعلیم و تبلیغ نہیں، بلکہ تفریحِ طبع اور کھیل تماشوں سے لذت حاصل کرنا ہوتا ہے ، لہٰذا مذکور فلموں کو دیکھنے والے تفریحِ طبع کی غرض سے فلم دیکھیں گے، نہ کہ علم، عبرت یا نصیحت حاصل کرنے کیلۓ ، جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ اگر یہی مضامین اپنی اصلی صورت میں وعظ و تذکیر کیلۓ بیان کیے جاتے ، تو یہ لوگ اس میں شریک ہونے کیلۓ تیار نہ ہوتے، اس لۓ مذکور قرآنی مضامین او ربزرگوں کے واقعات کے دیکھنے ، دکھانے کا مقصدِاصلی کھیل تماشہ سے لذت حاصل کرنا اور تفریحِ طبع کو بنا لینا کسی طرح بھی جائز نہیں۔
مذکورہ بالا وجوہ کی بناہ پر ،نیز دوسرے مفاسد کے پیشِ نظر ایسی فلموں کا بنانا ، دیکھنا ، دکھانا سب ناجائز ہیں، مسلمانوں کو اس سے سختی کیساتھ پرہیز کرنا چاہئیے، اور حکومت کا بھی فرض ہے کہ نہ صرف یہ کہ ایسی فلمیں دکھانے سے باز رہے، بلکہ آئندہ اس قسم کی فلموں کی نمائش کا مکمل طور پر سدِباب کرے۔(تبویب 60037)

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: وكل من كان من قبلتنا (لا يكفر بها) حتى الخوارج الذين يستحلون دماءنا وأموالنا وسب الرسول، وينكرون صفاته تعالى وجواز رؤيته لكونه عن تأويل وشبهة الخ
و فیہ ایضاً: (أو) الكافر بسب (الشيخين أو) بسب (أحدهما) في البحر عن الجوهرة معزيا للشهيد من سب الشيخين أو طعن فيهما كفر ولا تقبل توبته، وبه أخذ الدبوسي وأبو الليث، وهو المختار للفتوى انتهى، وجزم به في الأشباه وأقره المصنف قائلا: وهذا يقوي القول بعدم قبول توبة ساب الرسول - صلى الله عليه وسلم -، وهو الذي ينبغي التعويل عليه في الإفتاء والقضاء رعاية لجانب حضرة المصطفى - صلى الله عليه وسلم - اهـ لكن في النهر وهذا لا وجود له في أصل الجوهرة، وإنما وجد على هامش بعض النسخ، فألحق بالأصل مع أنه لا ارتباط له بما قبله انتهى.
و فی الرد تحت: (قوله وهو الذي ينبغي التعويل عليه) قلت: الذي ينبغي التعويل عليه ما نص عليه أهل المذهب فإن اتباعنا له واجب ط (قوله رعاية لجانب حضرة المصطفى - صلى الله عليه وسلم -) أقول: رعاية جانبه في اتباع ما ثبت عنه عند المجتهد (قوله لكن في النهر إلخ) قال السيد الحموي في حاشية الأشباه: حكي عن عمر بن نجيم أن أخاه أفتى بذلك فطلب منه النقل فلم يوجد إلا على طرة الجوهرة وذلك بعد حرق الرجل. اهـ. مطلب مهم في حكم سب الشيخين وأقول: ... فعلم أن ما ذكره في الخلاصة من أنه كافر قول ضعيف مخالف للمتون والشروح بل هو مخالف لإجماع الفقهاء كما سمعت. وقد ألف العلامة منلا علي القاري رسالة في الرد على الخلاصة، وبهذا تعلم قطعا أن ما عزي إلى الجوهرة من الكفر مع عدم قبول التوبة على فرض وجوده في الجوهرة باطل لا أصل له ولا يجوز العمل به، وقد مر أنه إذا كان في المسألة خلاف ولو رواية ضعيفة، فعلى المفتي أن يميل إلى عدم التكفير، فكيف يميل هنا إلى التكفير المخالف للإجماع فضلا عن ميله إلى قتله وإن تاب، وقد مر أيضا أن المذهب قبول توبة ساب الرسول - صلى الله عليه وسلم - فكيف ساب الشيخين. والعجب من صاحب البحر حيث تساهل غاية التساهل في الإفتاء بقتله مع قوله: وقد ألزمت نفسي أن لا أفتي بشيء من ألفاظ التكفير المذكورة في كتب الفتاوى، نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن، ولكن لو تاب تقبل توبته، هذا خلاصة ما حررناه في كتابنا تنبيه الولاة والحكام، وإن أردت الزيادة فارجع إليه واعتمد عليه ففيه الكفاية لذوي الدراية الخ(كتاب الجهاد باب المرتد ج:4 ص236 ط: سعيد)۔
وفی معجم الکبیر: حدثنا الحسن بن علوية القطان ثنا عباد بن موسى الختلي ثنا إسماعيل بن جعفر عن حبيب بن حسان عن أبي الضحى عن مسروق عن عبد الله قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون اھ (10/57)۔
وفی ریاض الصالحین: وعن ابن عباس رضي الله عنهما ، قال : سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول : (( كل مصور في النار يجعل له بكل صورة صورها نفس فيعذبه في جهنم )) . قال ابن عباس : فإن كنت لا بد فاعلا ، فاصنع الشجر وما لا روح فيه. متفق عليه اھ
وعنه ، قال : سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ، يقول : (( من صور صورة في الدنيا ، كلف أن ينفخ فيها الروح يوم القيامة وليس بنافخ )) . متفق عليه . (2/250)۔
و فی تکملة فتح الملھم: والفدیو فلاشك فی حرمة استعمالھا بالنظر إلی مایشتملان علیه من المنكرات الكثیرة من الخلاعة والمجون والكشف عن النساء المتبرّجات او العاریات وما إلی ذلك من اسباب الفسوق۔ اھ (۴/۱۶۴)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 98073کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کیا انبیاء سے خطاء اجتہادی ہوسکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   رسالت و نبوت 0
  • رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد تمام انسانیت امت رسول ہیں یا صرف مسلمان ؟

    یونیکوڈ   اسکین   رسالت و نبوت 0
  • نبی اکرم ﷺ کی شان میں لا علمی میں گستاخی کرنا

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • نبی اکرم ﷺ کی شان میں لا علمی میں گستاخی کرنا

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • دعوتِ دین اور اقامتِ دین میں فرق اور حضورؐ کی بعثت کا مقصد

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • عید میلاد النبیؐ منانے کا حکم

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • آپ علیہ السلام کو باضابطہ نبوت چالیس سال کی عمر میں ملی

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • درست عقیدہ کے ساتھ ’’یامحمد‘‘ کہنا

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 1
  • عقیدہ حیات النبی ﷺ

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • عید میلاد النبیؐ منانا بدعت ہے تو اس دن سیرت کے جلسے کرنا کیسے جائز ہے؟

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • عقیدہ حیات النبی ﷺ

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • عقیدہ حیات النبی ﷺ

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • حدیث اور وحی میں فرق نیز کیا نبی علیہ السلام کو غیب کا علم تھا؟

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • کیا کفار بھی آپ علیہ السلام کے امتی ہیں؟

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • گستاخِ رسولؐ کی توبہ کا حکم

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • توہین رسالت کے بعد بھی فیس بُک کو استعمال کرنا

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • عقیدہ حیات النبی ﷺ

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • یہ کہناکہ حضورؐ لوگوں سے ، پرانے قصے سن کر بطورِ قرآن پیش کر تے

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • غسل کرتے وقت ستر کا ڈھانپنا-وسیلہ کی حقیقت-شرک اور کفر کیا ہے

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام کی تعداد کی تعیین کا مسئلہ

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • امت کے اعمال کا حضور کے سامنے پیش کیے جانے کا عقیدہ رکھنا

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • آپﷺ کے لیے ’’حضور‘‘ کا لفظ استعمال کرنا

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • محفلِ میلاد میں حضورؐ کی آمد کا عقیدہ رکھنااور اس بناء پر کھڑا ہونا

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
  • مودودی صاحب کی تعبیراتی غلطیاں

    یونیکوڈ   رسالت و نبوت 0
Related Topics متعلقه موضوعات