مباحات

آنلائن کام میں پارٹنر شپ کو ختم کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
98252
| تاریخ :
2026-08-07
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

آنلائن کام میں پارٹنر شپ کو ختم کرنے کا حکم

السلام علیکم
میں نے آج سے تقریباً 4-5 سال پہلے اپنے نام سے Fiverr پر فری لانسنگ کا ایک چھوٹا سا آن لائن بزنس شروع کیا تھا۔
کچھ عرصے بعد میں نے اپنے کزن کو اپنے ساتھ بطور پارٹنر شامل کر لیا تھا۔ اس وقت ہمارے درمیان کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں ہوا تھا، البتہ ہم نے ایک دوسرے سے یہ بات کی ہوئی تھی کہ جو بھی کریں گے، ساتھ کریں گے، چاہے وہ جاب ہو، بزنس ہو یا کوئی اور کام۔ لیکن اس حوالے سے کوئی تحریری یا باقاعدہ معاہدہ نہیں ہوا تھا۔
ہمارے بزنس میں کوئی انوینٹری وغیرہ نہیں ہوتی تھی۔ یوں سمجھ لیں کہ اس کام کو پورا دن وقت دینا پڑتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ دوسرے ممالک کے کلائنٹس ہم سے رابطہ کر سکیں۔ جتنا زیادہ وقت دیا جائے، اتنا ہی زیادہ کام آتا ہے۔
آج سے تقریباً ڈیڑھ سال پہلے میرے پارٹنر کو کہیں سے جاب کی آفر آئی، جسے اس نے قبول کر لیا۔ اس جاب کی تنخواہ اس آمدنی سے بھی زیادہ تھی جو اسے بزنس سے ملتی تھی۔
جب وہ جاب پر جا رہا تھا تو میں نے اسے خاص طور پر سمجھایا تھا کہ آپ جہاں بھی جاب کریں، لیکن میرے بزنس پر میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونے دوں گا۔
کچھ عرصے بعد اس کی آفس کی مصروفیات کی وجہ سے کام میں بہت مسائل آنے لگے۔ کلائنٹس کو کام 12-12 گھنٹے دیر سے ڈیلیور ہونے لگا، جس کی وجہ سے وہ ناراض ہوتے تھے۔ اسے کلائنٹس سے بات کرنا بھی نہیں آتا تھا اور نہ ہی کام صحیح طریقے سے کرنا آتا تھا۔ یوں سمجھ لیں کہ 80 فیصد محنت میری ہوتی تھی، لیکن اس کے باوجود جو بھی ریونیو بنتا تھا، وہ ہم دونوں میں برابر تقسیم ہو جاتا تھا۔ میں نے اسے بے شمار مرتبہ سمجھایا کہ آپ اور آپ کی جاب کی وجہ سے بزنس متاثر ہو رہا ہے۔
اس دوران اگر میں چاہتا تو میں بھی جاب کر سکتا تھا۔ مجھے بھی جاب آفرز مل جاتی تھیں، بلکہ اس کی جاب سے بھی بہتر آفرز مل سکتی تھیں۔ لیکن میں نے صرف اس وجہ سے جاب نہیں کی کہ اگر میں جاب کرتا تو بزنس کو وقت نہیں دے پاتا اور بزنس تقریباً ختم ہو جاتا، کیونکہ میں اپنے بزنس کو پہلی ترجیح دے رہا تھا۔ جبکہ میرے پارٹنر نے خود کہا تھا کہ وہ بزنس کو ثانوی حیثیت دے کر چل رہا ہے۔ تو پھر کیا میں ہی بے وقوف تھا کہ میں بزنس کو پہلی ترجیح بھی دوں، 80 فیصد کام بھی میں کروں، اپنا پورا دن بھی اسی میں لگاؤں، اور اس کے باوجود ریونیو 50-50 تقسیم ہو؟
میں نے اسے دو آپشن دیے:
1۔ یا تو آپ اپنی جاب چھوڑ دیں اور بزنس پر مکمل توجہ دیں تاکہ جو بھی ریونیو آئے، وہ ہم دونوں میں برابر تقسیم ہو۔
2۔ یا پھر جتنا جس کا کام ہو، اسی حساب سے ریونیو تقسیم کیا جائے۔ اگر 80 فیصد کام میں کر رہا ہوں تو 80 فیصد ریونیو بھی میرا ہونا چاہیے۔
لیکن وہ دونوں آپشنز پر راضی نہیں ہوا۔
پھر میں نے فیصلہ کیا کہ الگ ہو جانا ہی بہتر ہے۔
میں نے اکاؤنٹ کے پاس ورڈ تبدیل کر دیے اور اس سے ہمارے آن لائن بزنس کا ایکسیس ختم کر دیا، کیونکہ وہ عملاً کوئی کام نہیں کرتا تھا۔ اگر کلائنٹس کے میسجز آئے ہوتے تو انہیں جواب بھی نہیں دیتا تھا، جس کی وجہ سے کلائنٹس بھی ہاتھ سے نکل جاتے تھے۔
میں نے اس کا ایکسیس ختم کرنے کے بعد اسے ایک محبت بھر ا پیغام بھیجا کہ:
"آپ الگ اور میں الگ۔ آپ کے حق کے جتنے بھی پیسے بنتے ہیں، میں وہ سب آپ کو دے رہا ہوں۔ نہ میری آپ سے کوئی دشمنی ہے اور نہ ہی میں آپ کا کوئی حق کھانا چاہتا ہوں۔ بس یہاں پر ہمارا ساتھ ختم ہوتا ہے۔"
اس کے بعد وہ مجھے دھمکیاں دینے لگا۔
ویسے بھی ہمارے بزنس سے کوئی بہت زیادہ ریونیو نہیں بنتا تھا۔
مجھے صرف اپنے اللہ کا خوف ہے، کسی اور چیز کا نہیں۔ میں نے یہ فیصلہ صرف اس لیے کیا کیونکہ میرے ساتھ زیادتی ہو رہی تھی۔ میں نے اسے بہت دفعہ سمجھایا، لیکن وہ بات سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
جب کبھی کام کم ہو جاتا تھا تو مجھے فکر ہوتی تھی کہ کہیں سے نئے کلائنٹس تلاش کر کے لاؤں، اور میں ایسا کرتا بھی تھا۔ لیکن اسے کبھی اس بات کی فکر نہیں ہوتی تھی، کیونکہ اسے اپنی جاب سے بھی تنخواہ مل رہی ہوتی تھی۔ وہ میرے بھروسے رہتا تھا کہ میں محنت کر رہا ہوں، اس لیے کلائنٹس بھی میں ہی لے آؤں گا۔
اب میں کسی بھی صورت اسے دوبارہ اپنا پارٹنر نہیں رکھ سکتا، کیونکہ اگر میں ایسا کرتا بھی ہوں تو مجھے یقین ہے کہ وہ میرے بزنس اکاؤنٹ کو نقصان پہنچائے گا۔
کیونکہ اس کے والد صاحب پہلے بھی ہمارے تایا کے ساتھ کاروبار میں زیادتی کر چکے ہیں۔
براہِ کرم میرے اس معاملے کو نجی اور خفیہ (private) رکھیے گا۔
مجھے آپ کی رائے چاہیے۔ باقی جو بھی فیصلہ میں نے کیا تھا، وہ سب دین اور قانون دونوں کے حوالے سے تحقیق کرنے کے بعد ہی کیا تھا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل کے کزن کی طرف سے مشترکہ کاروباری معاملات میں سستی اور کوتاہی کی وجہ سے اگر اس شراکت کو برقرار رکھنا ممکن نہ تھا اور سائل نے شرعی اور قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اس شراکت داری کو ختم کیا ہو تو سائل کے لیے شرعاً ایسا کرنا جائز و درست تھا۔ تاہم شراکت داری کے اختتام تک جس قدر ریونیو موجود تھا، اس میں حسبِ معاہدہ اپنے کزن کو اس کا آدھا حصہ دینا لازم اور ضروری ہوگا، جبکہ آئندہ سائل کے لیے اپنے کزن کو دوبارہ شریک کرنا بھی لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (تنفسخ الشركة بفسخ أحد الشريكين، ولكن يشترط أن يعلم الآخر بفسخه، ولا تنفسخ الشركة ما لم يعلم الآخر بفسخ الشريك). (3/ 370)
وفی فتح القدیر: الربح على ما شرطا، والوضيعة على قدر المالين. (کتاب الشرکۃ ،177/6،ط:مکتبہ مصطفیٰ البابی مصر)
وفی البحر الرائق: وقد أطلق المصنف تبعاً للهداية جواز التفاضل في الربح مع التساوي في المال، وقيده في التبيين وفتح القدير بأن يشترطا الأكثر للعامل منهما أو لأكثرهما عملاً. (کتاب الشرکۃ،5/188،ط:دارالکتاب الاسلامی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 98252کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات