مباحات

پاسپورٹ میں ڈبل نام ڈلوانے کے لیے بیوی کے نام کے ساتھ شوہر کا نام لگانا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
98380
| تاریخ :
2026-08-12
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

پاسپورٹ میں ڈبل نام ڈلوانے کے لیے بیوی کے نام کے ساتھ شوہر کا نام لگانا کیسا ہے؟

میر ی شریک حیات (رابعہ) کا نام سنگل نام ہے ۔اب پاسپورٹ بنوانے کے لیے ڈبل نام لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اب میں ان کا نام ڈبل نام کے ساتھ شناختی کارڈ بنوانا چاہتا ہوں تاکہ پاسپورٹ بنواسکوں۔ والد کا محمود الحسن لمبا نام ہونے کی وجہ سے نام بہت لمبا ہو رہا ہے،تو کیا میرا نام (زوج) محمد جمیل سے شریک حیات کا نام رابعہ جمیل رکھ کر شناختی دستاویز بنوا سکتا ہوں یا پھر کوئی اور نام رابعہ بصری یا القاب دوسرا انتخاب کرنا چاہیے؟ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں بیوی کے نام کے ساتھ شوہر کا نام لگانے سے مقصد چونکہ نسب میں تبدیلی نہیں ، بلکہ محض مذکو ر اغراض پاسپورٹ وغیرہ بنانے میں سہولت کی خاطر شوہر کا نام لگانا مقصود ہے ، اس لیے ایسا کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔(ماخوذ از تبویب بتغیر یسیر)

مأخَذُ الفَتوی

کما فی القرآن المجید: ﴿ اِمْرَاَةَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَةَ لُوْطٍ، كَانتا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ ﴾(التحریم:10)
وفي سنن أبي داود: حدثنا ‌مسدد ‌وسليمان بن حرب المعنى قالا: نا ‌حماد، عن ‌هشام بن عروة ، عن ‌أبيه ، عن ‌عائشة «أنها قالت: يا رسول الله، ‌كل ‌صواحبي لهن كنى. قال: فاكتني بابنك عبد الله يعني ابن اختها. قال مسدد: عبد الله بن الزبير. قال: فكانت تكنى بأم عبد الله» قال ‌أبو داود : هكذا رواه قران بن تمام ومعمر جميعا عن هشام نحوه، ورواه أبو أسامة، عن هشام، عن عباد بن حمزة، وكذلك حماد بن سلمة(‌‌باب في المرأة تكنى ج:4 ص:448 ناشر:المطبعة الأنصارية بدهلي- الهند)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کامران صادق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 98380کی تصدیق کریں
0     22
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات