محترم مفتی صاحب،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ براہِ کرم درج ذیل مسئلے کے بارے میں شرعی رہنمائی فرماتے ہوئے (فتویٰ) عنایت فرمائیں۔
مسئلہ:
آج کل متحدہ عرب امارات (UAE) اور دیگر ممالک میں بعض ایسی ڈیجیٹل قرعہ اندازی (Draws) اور لاٹریاں چل رہی ہیں جنہیں آرگنائزرز "شریعت کے مطابق" قرار دیتے ہیں۔ ان کا طریقہ کار درج ذیل ہے:
۱۔ کمپنی براہِ راست لاٹری کا ٹکٹ نہیں بیچتی، بلکہ گاہک سے کوئی معمولی مصنوعہ (جیسے کوئی ڈیجیٹل کارڈ، پانی کی بوتل یا کوئی کھلونا) اس کی اصل قیمت یا مارکیٹ ویلیو سے کچھ زائد قیمت پر خریدنے کو کہتی ہے۔
۲۔ مصنوعہ خریدنے پر کمپنی گاہک کو یہ اختیار بھی دیتی ہے کہ وہ چاہے تو وہ چیز خود رکھ لے یا اسے کسی فلاحی ادارے کو عطیہ (Donate) کر دے۔
۳۔ اس خریداری کے بعد کمپنی گاہک کو اپنی طرف سے ایک "مفت انعام" (Free Entry Ticket) دیتی ہے، جس کے ذریعے وہ کروڑوں روپے کے میگا ڈرا (Mega Draw) میں شامل ہو جاتا ہے۔
کمپنی کا مؤقف یہ ہے کہ چونکہ گاہک نے پیسے ایک چیز خریدنے کے لیے دیے ہیں اور قرعہ اندازی کا ٹکٹ اسے بالکل مفت ملا ہے، اس لیے یہ جوئے (میسر) کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ یہ عام شاپنگ مالز کے انعامی کوپنز کی طرح ہے۔
جبکہ دوسری طرف، خریدنے والے اکثر لوگوں کا مقصد وہ معمولی چیز خریدنا یا عطیہ کرنا نہیں ہوتا، بلکہ ان کی اصل نیت اور مقصد صرف اور صرف کروڑوں روپے کا انعام جیتنا ہوتا ہے۔
سوالات:
۱۔ کیا محض مصنوعہ (Product) خریدنے کا واسطہ دینے سے یہ معاملہ جوئے کی تعریف سے نکل جاتا ہے؟ اور کیا شرعی طور پر اس طرح کے ڈرا میں حصہ لینا اور رقم جیتنا حلال ہے؟
۲۔ اگر گاہک کی نیت صرف انعام حاصل کرنا ہو، تو کیا نیت کے اس اثر سے اس لین دین کے شرعی حکم پر کوئی فرق پڑتا ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔
الفقیر الی اللہ
صورتِ مسئولہ میں محض پروڈکٹ کی خریداری کے ساتھ قرعہ اندازی کا ٹکٹ مفت دینے سے یہ معاملہ شرعاً جائز نہیں ہوجاتا، بلکہ اس کے جواز کے لیے ضروری ہے کہ پروڈکٹ کو اس کی رائج بازاری قیمت پر فروخت کیا جائے، قرعہ اندازی کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ نہ کیا جائے اور خریدار کا مقصد بھی پروڈکٹ سے استفادہ ہو۔لہٰذا اگر کسی پروڈکٹ کی قیمت اس کی بازاری قیمت سے اس لیے زائد رکھی جاتی ہے کہ خریدار کو کروڑوں روپے کے انعامی ڈرا میں شرکت کا موقع دیا جائے، اور خریدار کا مقصد بھی پروڈکٹ کی خریداری نہ ہو بلکہ لکی ڈرا میں شامل ہونا ہو، تو زائد رقم متوقع انعام کے مقابل قرار پانے کی وجہ سے یہ معاملہ قمار کے مشابہ اور ناجائز ہوگا۔البتہ اگر پروڈکٹ مناسب بازاری قیمت پر فروخت ہو، انعام کی وجہ سے قیمت میں بہت زیادہ اضافہ نہ ہو اور خریدار کا مقصد پروڈکٹ سے استفادہ ہو، تو ایسی صورت میں خریدار کو بغیر کسی عوض کے قرعہ اندازی میں شامل کرکے انعام دینا اپنے کاروبار کو ترویج دینے کی ایک صورت ہے، جس میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔
کما فی بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ: وإنّ النوع الأول من ھذہ الجوائز غالباً ما تمنح علی أساس القرعۃ ونحوھا، لمشتری بضاعۃ مخصوصۃ أو منتج مخصوص، فإنّ کثیراً من التجار یعلنون جوائز یوزعونھا علی جملۃ منتخبۃ من المشترین، الذین یشترون بضاعتھم، ویقع انتخاب المجازین إما عن طریق القرعۃ، أو علی أساس أرقام الکوبونات التی توضع مع البضاعۃ.
فمن اشتری بضاعۃ حصل علی کوبون، فلو وافق رقم کوبونہ الرقم المنتخب للجائزۃ، استحق أن یجوز الجائزۃ المخصصۃ لذلک الرقم.
وإنّ حکم مثل ھذہ الجوائز أنھا تجوز بشروط:
الشرط الاول: أن یقع شراء البضاعۃ بثمن مثلھا، ولا یزاد فی ثمن البضاعۃ من أجل احتمال الحصول علی الجوائز، وھذا لأنہ إن زاد البائع علی ثمن المثل، فالمقدار الزائد إنما یدفع من قبل المشتری مقابل الجائزۃ المحتملۃ، فصارت الجائزۃ بمقابل مالی فلم تبق تبرعا، وإن ھذا المقابل المالی إنما وقع بہ المخاطرۃ، فصارت العملیۃ قمارا.
أما إذا بیعت البضاعۃ بثمن مثلھا، فإن المشتری قد حصل علی عوض کامل للثمن الذی بذلہ، ولم یخاطر بشیء، فالجائزۃ التی یحصل علیھا جائزۃ بدون مقابل، فیدخل فی التبرعات المشروعۃ.
الشرط الثانی: أن لا تتخذ ھذہ الجوائز ذریعہ لترویج البضاعات المغشوشۃ، لأن الغش والخداع حرام لا یجوز بحال.
الشرط الثالث: أن یکون المشتری یقصد شراء المنتج للانتفاع بہ، ولا یشتریہ لمجرد ما یتوقع من الحصول علی الجائزۃ، لأنہ إن لم یکن یقصد شراء المنتج، فإن ما یبذلہ من الثمن، إنما یبذلہ من أجل الجائزۃ، فکأن فیہ شبھۃ المخاطرۃ، فلا یخلو من شبھۃ القمار. (2/158 ط: دارالعلوم کراتشی)