مباحات

پوتوں کا داد ا کے گھر پر اسکی اجازت سے تعمیر کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
99248
| تاریخ :
2026-09-10
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

پوتوں کا داد ا کے گھر پر اسکی اجازت سے تعمیر کرنے کا حکم

میرے کل نو (9) عدد بچے ہیں جس میں پانچ(5) بیٹے اور چار(4) بیٹیاں ہیں ، میرے بڑے بیٹے کا انتقال ہوگیا ہے، میرا بڑا بیٹا کرائے کے مکان میں رہتاہے ،اب میرے پوتے مجھ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ دادا ابو ہم سے کرایہ نہیں دیا جاتا ،لہٰذا ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ کے گھر کے اوپر دو عدد فلور بنا لیں تاکہ ہمارا بھی گذارہ ہوجائے، ہم جو دو فلور بنائیں گے اس کا کل خرچہ ہم کریں گے، کل کے دن اگرگھر فروخت کرتے ہیں تو ہمیں صرف ہم نے جو دو فلور پر رقم لگائی ہیں ہم اس رقم لینے کے مجاز ہونگے، جو ہمارے والد اختر کا حصہ ہوگا وہی حصہ لینے کے مجاز ہونگے ؟(نوٹ) میرے پوتے مجھ سے جو اجازت مانگ رہے ہیں کیا میں ان کو اجازت دینے کا مجاز ہوں ، اور پھر تعمیر پر آنے والا خرچہ ان کو واپس کرنا لازم ہوگا ؟اور میں چاہوں کہ میرے پوتوں کو بھی میرے مرنے کے بعد کچھ ملے، تو کیا میں ان کے والد کے حصہ کے مطابق وصیت کرسکتاہوں ؟ جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں،

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسؤلہ میں مذکور گھر اگر سائل کا اپنا ذاتی ہو تو اس کو اس گھر میں ہر قسم کے تصرف کا اختیار حاصل ہے،لہذا وہ اگر اپنے پوتوں کو اپنے گھر کے اوپر دو عدد فلو ر بنانے کی اجازت دینا چاہیے تو دے سکتا ہے شرعاً اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے،البتہ اگر یہ دو فلور وہ سائل کی اجازت سے اپنے لئے تعمیر کریں تو وہ اس تعمیر کے مالک ہوں گے اور اس گھر کے فروخت ہونے کی صورت میں اس تعمیر کا اس وقت موجودہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے رقم کے حقدار ہوں گے جو انہیں حوالہ کرنا لازم ہوگا،البتہ سائل کےجس بیٹے کا انتقال سائل کی زندگی میں ہوا ہے وہ چونکہ سائل کے ترکہ میں حصہ دار نہ ہوگا اس لئے ان کے توسط سے ان کی اولاد بھی ترکہ میں حصہ داری کا مطالبہ نہیں کرسکتی،تاہم اگر سائل اپنے پوتوں کیلئے جائیداد میں سے کسی حصہ کا وصیت کرنا چاہے تو ایک ثلث کی حد تک وصیت کرسکتا ہے ،اسی طرح اپنی زندگی میں اگر انہیں کچھ دینا چاہے تاکہ بعد میں اختلافات اور انتشار پیدا نہ ہو تو یہ بھی بلاشبہ جائز اور درست ہے،لیکن ایسی صورت میں انہیں اس حصہ کا مالک وقابض بنانا ضروری ہوگا تاکہ شرعاً بھی یہ ھبہ درست اور تام ہوسکے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی تبیین الحقائق: اعلم أن للإنسان أن يتصرف في ملكه ما شاء من التصرفات ما لم يضر بغيره ضررا ظاهرا اھ(كتاب القضاء،باب مسائل شتى،ج: 4،ص: 196،مط: دار الکتاب الاسلامی)
و فی درر الحکام: كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير اھ(الفصل الأول في بيان بعض القواعد المتعلقة بأحكام الأملاك،ج: 3،ص: 201،مط: دار الجیل)
و فی ردالمحتار: وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه،اھ(كتاب الفرائض،ج: 6،ص: 758،مط: دارالفکر)
و فی الفتاوی الھندیة: ويستحب أن يوصي الإنسان بدون الثلث سواء كانت الورثة أغنياء أو فقراء، كذا في الهداية والأفضل لمن له مال قليل أن لا يوصي إذا كانت له ورثة والأفضل لمن له مال كثير أن لا يتجاوز عن الثلث فيما لا معصية فيه، كذا في خزانة المفتين.اھ(كتاب الوصايا، الباب الأول في تفسير الوصية،ج: 6،ص: 90،مط: دارالفکر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 99248کی تصدیق کریں
0     19
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات