احکام نماز

امام مسجد کو سنن ونوافل کے بعد اجتماعی دعا کے لیے مجبور کرنا

فتوی نمبر :
10094
| تاریخ :
2020-10-26
عبادات / نماز / احکام نماز

امام مسجد کو سنن ونوافل کے بعد اجتماعی دعا کے لیے مجبور کرنا

جناب مفتی صاحب السلام علیکم!
مفتی صاحب! امام مسجد جماعت کروانے کے بعد مختصر دعا کرتے ہیں اور پھر سنت اور نفل پڑھنے میں مصروف ہوجاتے ہیں،لیکن کچھ مقتدی امام صاحب کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ سنت ادا کرنے کے بعد مقتدیوں کی طرف منہ کرے اجتماعی دعا کروائے، مگر ہمارے گاؤں کے کچھ علماءِ کرام اس کو بدعت کہتے ہیں۔ جناب مفتی صاحب قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں کہ ہم کیا کریں؟ اللہ تعالیٰ آپ کو لمبی عمر عطا کرے۔ آمین! والسلام۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سنن اور نوافل کے بعد اجتماعی دعاکرنے کا التزام خلافِ سنت اور بدعت ہے، آنحضرتﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے ثابت نہیں، بلکہ اس کے خلاف آپﷺ اور صحابہ کرامؓ سے سنن اور نوافل کو گھروں میں پڑھنا ثابت ہے، اس لیے سنن کے بعد اجتماعی دعا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اس لیے ان لوگوں کو چاہیے کہ جو امام کو سنن کے بعد اجتماعی دعا پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنے اس غلط اعمال اور مطالبہ سے احتراز کریں اور امام موصوف کے ذریعے سب نمازیوں کو بدعت پر نہ لگائیں، اگر ایسا ہوا تو سب کے گناہ کا ذریعہ یہ لوگ بنیں گے، اسی طرح امام موصوف کو بھی چاہیے کہ کسی کے کہنے اور مجبور کرنے سے خلافِ شرع امور کا ارتکاب نہ کریں، بلکہ لوگوں کو سنت کے مطابق چلانے کی کوشش کرے۔
جبکہ دعا کے سلسلہ میں امام موصوف کا طرزِ عمل درست ہے، البتہ انفرادی طور پر جو جتنی دیر چاہے دعا کرسکتاہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي صحيح البخاري: قال يحيى بن سعيد: سمعت أنس بن مالك، قال: أتى رجل أعرابي من أهل البدو إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يوم الجمعة، فقال: يا رسول الله، هلكت الماشية، هلك العيال هلك الناس، «فرفع رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يديه، يدعو، ورفع الناس أيديهم معه يدعون» اھ(2/ 31)
وفی مشکاة المصابیح: وعن كعب بن عجرة قال: إن النبي - صلى الله عليه وسلم - أتى مسجد بني عبد الأشهل فصلى فيه المغرب فلما قضوا صلاتهم رآهم يسبحون بعدها فقال: «هذه صلاة البيوت» . رواه أبو داود وفي رواية الترمذي والنسائي قام ناس يتنفلون فقال النبي - صلى الله عليه وسلم -: «عليكم بهذه الصلاة في البيوت» اھ (۱/۱۰۵)۔
وفي الفتاوی الھندية: الأفضل في السنن والنوافل المنزل لقوله - عليه السلام - «صلاة الرجل في المنزل أفضل إلا المكتوبة» اھ (۱/۱۱۳)۔
وفي الفتاوی التاتارخانية: ٳذا صلی الرجل المغرب في المسجد بالجماعة یصلی رکعتي المغرب في المسجد ٳن کان یخاف ٳن لو رجع ٳلی بیته یشغل بشئ، وٳن کان لا یخاف فالافضل ٲن یصلي في بیته لقوله ۔ علیه السلام ۔ خیر صلاة الرجل في المنزل ٳلا المکتوبة اھ (۱/۶۴۵)۔ واللہ اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ظہیر یونس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 10094کی تصدیق کریں
0     696
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات