احکام نماز

چار کی فرض نماز میں امام کا پانچویں رکعت کے لۓ کھڑا ہوجانا-بھولے سے ایک سجدۂ سہو کرلینا

فتوی نمبر :
10576
| تاریخ :
2011-02-12
عبادات / نماز / احکام نماز

چار کی فرض نماز میں امام کا پانچویں رکعت کے لۓ کھڑا ہوجانا-بھولے سے ایک سجدۂ سہو کرلینا

ہمارا یک ساتھی ظہر کی نماز کراتے ہوئے آخری قعدے میں بیٹھنے کے بجائے سیدھا کھڑا ہوگیا ، پیچھے سے کسی ساتھی نے" اللہ اکبر" کہہ کر آواز دی تو وہ واپس قعدے میں بیٹھ گیا ، مگر سجدۂ سہو میں بجائے دو کے ایک سجدہ کیا ، سوال یہ ہے کہ اگر امام اس طرح پانچویں رکعت کے لۓ کھڑا ہوجائے تو اس کو چھ رکعت پوری کر لینی چاہیۓ یا واپس بیٹھ کرسجدۂ سہو کر لینا چاہیۓ، دوسرا یہ کہ سجدۂ سہو میں دو کی بجائے ایک سجدہ کر لیا تو نماز ہوگئی یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جی ہاں! مذکورہ پہلی صورت میں نماز بلا کراہت درست ادا ہو گئی ہے اور بھول کر سجدہ سہو کا ایک سجدہ ہو جانے میں حرج نہیں، جبکہ محض پانچویں رکعت کے لۓ کھڑا ہوجانے کی صورت میں اس کے ساتھ چھٹی رکعت ملانا ضروری نہیں، بلکہ بیٹھ کر سجدۂ سہو کرلے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الهدایة: " و إن سها عن القعدة الأخيرة حتى قام إلى الخامسة رجع إلى القعدة ما لم يسجد لأن فيه إصلاح صلاته و أمكنه ذلك لأن ما دون الركعة بمحل الرفض. قال : و ألغى الخامسة لأنه رجع إلى شيء محله قبلها فترتفض و سجد للسهو لأنه أخر واجبا اھ (۱/ ۱۵۹)۔
و فی حاشیة الطحطاوی : فلو اقتصر علی سجدة واحدة لایکون آتیا بالواجب و لا شئی علیه إن کان ساهیا و إن تعمده یأثم اھ (ص: ۲۵۰)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 10576کی تصدیق کریں
0     859
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات