مفتی صاحب! اگر سجدے میں دونوں پیر چند لمحوں کے لۓ اُٹھ جائیں تو کیا نماز ٹوٹ جائےگی۔
سجدہ میں پاؤں کا زمین پر لگا ہونا ضروری ہے، اگر تھوڑی دیر کے لۓ بھی رکھ لۓ تو نماز درست ادا ہوجائے گی، تاہم اگر پورے سجدہ میں پاؤں زمین پر نہیں رکھے تو نماز درست نہیں ہوگی، اس کا اعادہ لازم ہوگا ، جبکہ سجدے میں پاؤں رکھ کر اُٹھانے سے بھی احتراز چاہیۓ ۔
فی حاشية ابن عابدين : (قوله و منها السجود) هو لغة : الخضوع (إلی قوله) و أما إذا رفع قدميه في السجود فإنه مع رفع القدمين بالتلاعب أشبه منه بالتعظيم و الإجلال اهـ (إلی قوله) (قوله و قدميه) يجب إسقاطه لأن وضع إصبع واحدة منهما يكفي كما ذكره بعد ح . و أفاد أنه لو لم يضع شيئا من القدمين لم يصح السجود اھ (1/ 447)۔
و فی الفتاوى الهندية : و لو سجد و لم يضع قدميه على الأرض لا يجوز و لو وضع إحداهما جاز مع الكراهة إن كان بغير عذر . (1/ 70)۔