مباحات

غلام کا وجود

فتوی نمبر :
10723
| تاریخ :
2020-10-26
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

غلام کا وجود

آج کے کے دور میں غلام کا کیا (idea) تاثر ہے؟ کیا جنگی قیدی ہی غلام بنائے جاسکتے ہیں یا کوئی اور بھی طریقہ ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

غلام وہ مرد کہلاتا ہے جو کفار کے ساتھ جہاد شرعی کے نتیجہ میں قید ہوکر آجائے اور مسلمان حاکم اسے مجاہدین میں تقسیم کردے، اگر ایسا ہوجائے تو آج کے دور میں بھی کوئی ناجائز نہیں، البتہ اس دور میں ایک عالمی معاہدے کے نتیجہ میں عملاً اس کا وجود نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

وفي تکملة فتح الملھم: نادی الإسلام بأنه لایجوز استرقاق ٲحد ٳلا في جھاد شرعي اھ (۱/۲۶۴)۔
وفیه ایضا: إن أکثر ٲقوام العالم قد أحدثت الیوم معاھدۃ فیما بینھا، وقررت أنه لا تسترق أسیرا من ٲساری الحروب، وٲکثر البلاد الإسلامية من شرکاء ھذہ المعاھدۃ، ولاسیما ٲعضاء ‘‘الإمم المتحدو’’فلا یجوز لمملكة ٳسلامية الیوم ٲن تسترق ٲسیرا مادامت ھذہ المعاھدة باقية اھ (۱/۲۷۲) واللہ اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
رحمت اللہ دولت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 10723کی تصدیق کریں
0     815
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات