آج کے کے دور میں غلام کا کیا (idea) تاثر ہے؟ کیا جنگی قیدی ہی غلام بنائے جاسکتے ہیں یا کوئی اور بھی طریقہ ہے؟
غلام وہ مرد کہلاتا ہے جو کفار کے ساتھ جہاد شرعی کے نتیجہ میں قید ہوکر آجائے اور مسلمان حاکم اسے مجاہدین میں تقسیم کردے، اگر ایسا ہوجائے تو آج کے دور میں بھی کوئی ناجائز نہیں، البتہ اس دور میں ایک عالمی معاہدے کے نتیجہ میں عملاً اس کا وجود نہیں۔
وفي تکملة فتح الملھم: نادی الإسلام بأنه لایجوز استرقاق ٲحد ٳلا في جھاد شرعي اھ (۱/۲۶۴)۔
وفیه ایضا: إن أکثر ٲقوام العالم قد أحدثت الیوم معاھدۃ فیما بینھا، وقررت أنه لا تسترق أسیرا من ٲساری الحروب، وٲکثر البلاد الإسلامية من شرکاء ھذہ المعاھدۃ، ولاسیما ٲعضاء ‘‘الإمم المتحدو’’فلا یجوز لمملكة ٳسلامية الیوم ٲن تسترق ٲسیرا مادامت ھذہ المعاھدة باقية اھ (۱/۲۷۲) واللہ اعلم بالصواب!