احکام نماز

حالت نماز میں قرآن ہاتھ میں پکڑ کر تلاوت کرنا

فتوی نمبر :
10824
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

حالت نماز میں قرآن ہاتھ میں پکڑ کر تلاوت کرنا

میں نے حج کے دوران سیکھا ہے کہ اگر ہم تہجد میں حضرت محمدﷺ کی طرح قرآن پڑھنا چاہتے ہیں تو جب ہمیں قرآن زبانی یاد نہ ہو تو ہم قرآن ہاتھ میں پکڑ سکتے ہیں؟ کیا یہ حقیقت ہے میں اس طرح کرنا شروع کر چکا ہوں اور تہجد کی آٹھ رکعت میں روزانہ ایک بارہ مکمل کر لیتا ہوں، اسی طرح میں فرض نماز میں بھی قرآن پکڑنا اور فجر میں سورہ رحمان اور واقعہ جیسی سورتیں پڑھنا شروع کر چکا ہوں، لیکن اب میرے علم میں آیا ہے کہ ہم نماز کے دوران ہاتھوں میں قرآن نہیں پکڑ سکتے ۔ کیا یہ سچ ہے۔ برائے مہرانی جلد میری مدد کیجیے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسی بھی صحیح یا ضعیف حدیث سے نبی کریم ﷺ کا قرآن ہاتھ میں پکڑ کر تہجد پڑھنا ثابت نہیں، اس لیے سائل کی مذکور سوچ درست نہیں، جبکہ قرآن کریم ہاتھ میں لے کر اس کے اوراق پلٹنا عمل کثیر ہے جو فسادِ نماز کا باعث ہے، اس لیے اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدرالمختار: (وقراءته من مصحف أي ما فيه قرآن (مطلقا)
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله مطلقا) أي قليلا أو كثيرا، إماما أو منفردا، أميا لا يمكنه القراءة إلا منه أو لا اھ(1/ 624)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شاہد گل رحمن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 10824کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات