میں اپنے ایک ضرورت مند دوست کے لئے کام کرتا تھا، میں نے ایک منصوبہ میں اس کی مدد کی تھی، جب منصوبہ تکمیل کو پہنچا، تو اس نے مجھ سے اس منصوبہ کے ڈیزائن کے بارے میں پوچھا ، پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم کتنے پیسے لوگے؟ میں نے اس کو کہا کہ ہم دوست ہیں اور جب اس کو میری ضرورت ہوگی تو میں اس سے کچھ نہیں لونگا، تو اس پر اس نے مجھے جواب دیا کہ یہ بات مجھے پسند نہیں اور جو کام میں نے اس کے لئے کیا ہے، اس کی تنخواہ ایک لاکھ پچیس ہزار روپے بنتے ہیں اگروہ کسی اور سے جا کر کر تے، لیکن اس نے مجھے بتایا کہ تم یہ کام اس کے لئے ڈسکاؤنٹ پر کرنا ہے، اور وہ مجھے پچاس یا ساٹھ ہزار روپے دیگا ۔ اگر چہ اس کام کی قیمت اوپن مارکیٹ میں اس کا ڈبل ہے جو وہ کہہ رہا ہے، میں ابھی بھی اس کی مدد کرنا چاہتا ہوں ، میں نے اس کو کہا کہ اس کا دوست ہونے کی حیثیت سے یہ کام اسکے لئے بلا معاوضہ کروں گا، لیکن وہ اس کی اجرت مجھے دینا چاہتا ہے، یہ ہمارا اختتامی کلام تھا اور اس کے بعد ہم نے وہ منصوبہ شروع کر دیا، اور اس کے بعد ہم نے رقم کے معاملہ میں کوئی بات چیت نہیں کی، یہاں تک کہ ہمارا منصوبہ آدھے تک پہنچ گیا اور میں نے اس سے بیس ہزار روپے لے لیے، اور اس نے مجھے دوبارہ کہا کہ وہ مجھے پچاس ہزار روپے دےگا، اور میں نے بھی اس کو دوبارہ کہا کہ میں دوست ہونے کی حیثیت سے بلا معاوضہ کام کروں گا، لیکن اگر وہ مجھے دینا چاہتا ہے تو بغیر ڈسکاؤنٹ کے مکمل رقم دینی پڑے گی ، کام ختم ہونے کے بعد وہ میرے بارے میں سب کچھ بھول گیا، اور میں نے اس کو کافی عرصہ سے نہیں دیکھا، میرا اس کے پاس کام مکمل ہونے کا ایک سال ہو چکا تھا کہ میں نے اس سے اپنی تنخواہ کے بارے میں پوچھا جو مجھے اس نے مکمل دینی تھی، جس سے اس نے قطعا انکار کر دیا، اس نے مجھے کہا کہ وہ مجموعی طور پر پچاس ہزار دےگا، اور میں نے اس کو کہا کہ میں اس کے ساتھ پچاس ہزار پر متفق نہیں ہوا تھا، اور میں نے اس کو ہمیشہ کہا تھا کہ وہ مجھے پوری تنخواہ دے گا ، مثلاً سوا لاکھ سے ایک لاکھ تک اب وہ مجموعی پچاس ہزار روپے پر سختی سے اٹکا ہوا تھا، تو میں نے کہا کہ ٹھیک ہے ، میں اس سے عدالت کے ذریعہ لے لوں گا، اس نے نہایت ہی اعتماد کے ساتھ مجھے یہ کہا تو میں نے یہ محسوس کیا کہ شاید میں غلط ہوں، براہ مہربانی مجھے بتائیں اگر میں غلطی پر ہوں تو میں اس کو معاف کردوں؟
واضح ہو کہ جب سائل کا اس سے کچھ لینے کا ارادہ ہی نہیں تھا، اور تنخواہ نہ لینے اور دوستی میں کام کرنے کی صراحت بھی کر دی تھی ، تو اب اس سے اپنی اجرت کا مطالبہ درست نہیں ، البتہ دوسرے دوست نے جب اس کا معاوضہ مبلغ ستر ہزار روپے دینے کی بات صراحۃً کر دی تھی تو اسے چاہیئے کہ وہ بھی اپنے وعدہ کی پاسداری کرے، اور احسان کا بدلہ احسان سے ہی دینے کی فکر کرے ۔
كما في قوله تعالى : {هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ } [الرحمن: 60]
كما في مشكاة المصابيح: وعن عبد الله بن عامر قال: دعتني أمي يوما ورسول الله صلى الله عليه وسلم قاعد في بيتنا فقالت: ها تعال أعطيك. فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما أردت أن تعطيه؟» قالت: أردت أن أعطيه تمرا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أما إنك لو لم تعطيه شيئا كتبت عليك كذبة» . رواه أبو داود والبيهقي في «شعب الإيمان» (3/ 1368)
و في الفتاوى الهندية: قال للخياط خطه بأجر فقال لا أريد الأجر فخاطه لا يستحق الأجر كذا في الوجيز للكردري إذا دفع إلى خياط ثوبا فخاطه ولم يشترط الأجر له الأجرة إلا إذا قال لا أريد منك الأجرة كذا في السراجية اھ (4/ 521)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0