السلام علیکم!
میں اس کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں سول انجنیئر ہوں، اور ہم تعمیراتی کمپنی میں کام کر رہے ہیں، ہم بڑی بڑی بلڈنگیں ، روڈ اور دوسری چیزیں تعمیر کرتے ہیں، لیکن بخاری کی حدیث میں آتا ہے کہ برا پیسہ وہ ہے جو بلڈنگوں کے بنانے میں استعمال کیا جائے ۔ اب میں یہ پوچھتا ہوں کہ ہمارا یہ کاروبار حلال ہے یا نہیں؟ اگر حلال ہے تو اس کی کیا صورت ہو گی اور اس کے کرنے میں کیا نیت ہونی چاہیئے؟ اگر حلال نہیں تو ہم کیا کریں؟ برائے مہربانی مجھے ہمارے کاروبار یا نوکری کے بارے میں بتائیں۔
شرعاً اس کا روبار اور ملازمت میں کوئی قباحت نہیں ،بلکہ حدیث میں جو وعید آئی ہے، ان لوگوں کے بارے میں ہے ،جو محض دکھلاوا ، تفاخر کے لئے اور ضرورت سے زائد تعمیری سلسلہ پر اخراجات کر کے اسراف کے مرتکب ہوتے ہیں۔
كما في مشكاة المصابيح: قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «النفقة كلها في سبيل الله إلا البناء فلا خير فيه» . رواه الترمذي اھ (3/ 1432)۔
و في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:(إلا البناء)اللام للعهد أي: إلا البناء الزائد على مقدار الحاجة (فلا خير فيه) : لوقوع الإسراف، وإن الله لا يحب المسرفين، وأما النفقة فلا يتصور فيها السرف لأنها من باب الإطعام والإنعام اھ (8/ 3244)
و في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: [ (يتطاولون في البنيان) ] أي: يتفاضلون في ارتفاعه وكثرته ويتفاخرون في حسنه وزينته (1/ 64)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0