مفتی صاحب السلام علیکم! میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ عشاء کی نماز میں وتر کے دوران دعائے قنوت پڑھنے میں کوئی غلطی ہو گئی ہو ، اور جہاں غلطی ہوئی ہو اس کو اسی وقت صحیح کر کے پھر سے پڑھ لیا جائے اور سجدۂ سہو بھی کر لیا جائے تو نماز ہو جاتی ہے؟ اور اگر ہو جاتی ہے تو کیا سجدۂ سہو کرنا ضروری تھا یا اس کے بغیر جہاں غلطی ہوئی تھی اس کو صحیح کر کے پڑھنے سے بھی نماز ہوجاتی؟
دعائے قنوت میں لفظی غلطی سے سجدۂ لازم نہیں ہوتا ، بلکہ محض غلطی درست کر لینا کافی ہے۔
فی الفتاوى الهندية : و لا يجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره أو تغيير واجب بأن يجهر فيما يخافت و في الحقيقة وجوبه بشيء واحد و هو ترك الواجب ، كذا في الكافي . (1/ 126)۔