احکام نماز

فتوی نمبر :
11294
| تاریخ :
2011-03-20
عبادات / نماز / احکام نماز

جناب! میری زوجہ محترمہ بقضائے الہٰی اس دنیا دنیا سے کوچ کر گئی ہیں، بیماری کے آخری دنوں میں شدت مرض وغنودگی کی وجہ سے وہ کچھ نمازیں نہ پڑھ سکی اور اس حالت میں وہ اللہ کو پیاری ہوگئی ، اگر اس کو صحت ملی اور اس قابل ہو جاتی کہ قضاء پڑھ سکے تو ضرور ادا کرتی، لیکن مہلت نہ مل سکی، کیا اس حالت میں اللہ تعالیٰ سبحانہ یہ قضاء نمازیں معاف فرمائےگا یا ہم وارثوں پر کیا لازمی ہے ہم فکر مند ہیں۔ مہربانی سے شرعی حکم سے آگاہی دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کی زوجہ مرحومہ کی مرض الوفات کی وہ نمازیں جو ایسی حالت میں قضاء ہوئی ہیں، جس میں وہ اشارہ سے نماز پڑھ سکتی تھی، مگر پڑھی نہیں، اسی نمازوں کے متعلق اگر مرحومہ نے وصیت کی ہو تو ثلت مال سے اس کا فدیہ ادا کرنا لازم ہے، ورنہ کوئی بھی وارث اپنی طرف سے قضاء شدہ نمازوں کا فدیہ ادا کر سکتا ہے جس کا اجر اس کو ملےگا۔
جبکہ ایسی حالت کی نمازیں جس میں مرحومہ چوبیس گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت بےہوش رہی ہوں یا ہوش تو ہو لیکن اشارہ سے بھی نماز پڑھنے کی استطاعت نہ ہو تو ایسی نمازوں کی نہ کوئی قضاء ہے اور نہ کوئی فدیہ وغیرہ ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی حاشية ابن عابدين: (قوله وعليه صلوات فائتة إلخ) أي بأن كان يقدر على أدائها ولو بالإيماء، فيلزمه الإيصاء بها وإلا فلا يلزمه وإن قلت، بأن كانت دون ست صلوات، لقوله - عليه الصلاة والسلام - «فإن لم يستطع فالله أحق بقبول العذر منه» اھ (2/ 72)
وفی الفتاوى الهندية: وفي فتاوى الحجة وإن لم يوص لورثته وتبرع بعض الورثة يجوز ويدفع عن كل صلاة نصف صاع حنطة منوين ح(1/ 125)
وفیها أیضاً: وإذا عجز المريض عن الإيماء بالرأس في ظاهر الرواية يسقط عنه فرض الصلاة (إلی قوله) وإن مات من ذلك المرض لا شيء عليه ولا يلزمه فدية، كذا في المحيط. اھ (1/ 137)
وفیها أیضاً: ومن أغمي عليه خمس صلوات قضى ولو أكثر لا يقضي والجنون كالإغماء وهو الصحيح اھ (1/ 137) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
راشد بشیر عباسی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 11294کی تصدیق کریں
0     758
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات