براہِ مہربانی قرآن وحدیث سے تفصیلی حوالہ دیجیے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت نہیں ہوئے اور آسمانوں کی طرف اُٹھا لیے گئے ہیں اور روزِ قیامت سے پہلے دوبارہ تشریف لائیں گے، میں ایک شخصیت سے ملا ہوں جو اعتدال پسند عالم کہلاتاہے اور اس کی رائے ہے کہ یہ عقیدہ عیسائیوں کی طرف سے ملایا گیاہے اس کو افضل بنانے کیلیے۔
واضح ہوکہ حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام اور ان کا بجسدِ عنصری کےساتھ آسمانوں کی طرف اُٹھایا جانا اور قُربِ قیامت دنیا میں تشریف لانا، اسلام کے بنیادی عقائد اور ضروریاتِ دین میں شامل ہے، جو قرآنِ کریم کی نصوص قطعیہ احادیث متواترہ اور اجماعِ امت سے ثابت ہے، چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
﴿وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا، بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ﴾ (سورۃ النساء ۱۵۷، ۱۵۸)
ترجمہ: ’’اور اس کو قتل نہیں کیا بے شک، بلکہ اس کو اُٹھالیا اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف‘‘ اور ارشاد ہے:
﴿إِذْ قَالَ اللَّهُ يَاعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُون﴾ (آل عمران: ۵۵)
ترجمہ: ’’جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں لے لوں گا تجھ کو اور اُٹھا لوں گا اپنی طرف اور تم کو ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں، جو منکر ہیں اور جو لوگ تمہارا کہنا ماننے والے ہیں ان کو غالب رکھنے والا ہوں ان لوگوں پر جوکہ منکر ہیں روزِ قیامت تک، پھر میری طرف ہوگی سب کی واپسی، سو میں تمہارے درمیان فیصلہ کردوں گا ان امور میں جن میں تم باہم اختلاف کرتے تھے‘‘۔
نیز آنحضرتﷺ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی سو سے زائد احادیث منقول ہیں، ان سب کو امام العصر حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے اپنی کتاب ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ میں ذکر فرمایا ہے، منجملہ ان کے ایک حدیث یہ ہے:
ففي صحیح الامام مسلم: عن النواس بن سمعان، قال: ذكر رسول الله - صلى الله عليه وسلم - الدجال ذات غداة (ٳلی قوله) فبينما هو كذلك إذ بعث الله المسيح ابن مريم، فينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق، بين مهرودتين، واضعا كفيه على أجنحة ملكين (ٳلی قوله)فیطلبه حتی یدرکه بباب لد فیقتله الحدیث (۲/۴۰۱)۔
ترجمہ: ’’رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمائیں گے وہ دمشق کی جامع مسجد کے سفید مشرقی مینار پر اتریں گے، وہ دو زرد چادریں پہنے ہوئے ہوں گے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو دو فرشتوں کے بازؤں پر رکھے ہوئے ہونگے، پھر وہ دجال کی تلاش میں نکلیں گے تا آنکہ اس کو ’’بابِ لُد‘‘ کے مقام پر پائیں گے، پھر اُسے قتل کردینگے‘‘۔
جس شخص نے یہ بات کہی کہ یہ بات عیسائیوں کی طرف سے ملالی گئی ہے وہ عالم تو کجا اس کی مسلمانی میں شُبہ ہے اور اس قسم کی باتیں قادیانی لوگوں کا شعار ہے، اس کی باتوں سے متاثر ہونے کی ضورت نہیں۔ تفصیل کیلیے ملاحظہ ہو ’’توضیح المرام‘‘ مؤلفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صاحب صفدرؒ۔ واللہ اعلم بالصواب!