مولانا سید ابو الاعلیٰ نے اپنی کتاب ’’تفہیم القرآن‘‘ (ج:۱ ص: ۴۱۸، ص۴۲۵) میں ان انبیاء کا ذکر کیاہے جو کہ بائبل میں ذکر کیے گئے ہیں اور قرآن میں ان کا تذکرہ نہیں، مثلاً: یسعیاہ، اموس وغیرہ کہ یہ بھی اصلی انبیاء تھے کیوں؟
جن انبیاء علیہم السلام کا ذکر قرآن یا احادیثِ مبارکہ میں نہیں ملتا، اُن پر بغیر کسی تخصیص وتعیین کے صرف ایمان لانا کافی ہے، ان کے نام ونسب وغیرہ کو پہچاننا شرعاً ضروری نہیں اور نہ ہی اس سلسلہ میں اہلِ کتاب کی تحریف شدہ کتب پر اعتماد کیا جاسکتاہے۔
ففي صحیح البخاري: قال أبو هريرة: عن ۔ النبي صلى الله عليه وسلم ۔ : " لا تصدقوا أهل الكتاب ولا تكذبوهم، وقولوا: {آمنا بالله وما أنزل} [البقرة: 136] الآية اھ (۲/۱۰۹)۔
وفي البداية والنھاية: وٲما الاخبار الاسرائیلية (ٳلی قوله)ومنھا: ما یتحمل الصدق والکذب، فھذا الذي ٲمرنا بالتوقف فیه فلا نصدقه ولا نکذبه اھ (۲/۴۷)۔ واللہ اعلم بالصواب!