ایک حدیث میں آیاہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ واپس زمین پر آئینگے اور اللہ تعالیٰ ان کو وحی کرینگے مسلمانوں کو کوہِ طور پر لے جائیں تو اس وحی کا کیا مطلب ہے؟
کیا وحی کا دروازہ بند نہیں ہوا حضورﷺ کی وفات کے بعد؟ تو اس وحی کا کیا مطلب ہے؟ (صحیح مسلم ج:۲ ص: ۴۰۱ باب ذکر الدجال)
واضح ہوکہ اس میں شک نہیں کہ حضورﷺ نبی کریمﷺ کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد وحی کا معروف اور اصطلاحی طریقہ کار جس میں احکام شریعت کا بیان ہو یہ بھی ہمیشہ کیلیے منقطع ہوگیاہے، البتہ اللہ تعالیٰ کے کسی نیک بندے کو الہام یا خواب کے ذریعہ کسی امر کی نشاندہی کسی معاملہ پر آگاہی یا اس کی وضاحت سے متعلق معلوم ہوجانے کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا، اگرچہ اس پر بھی لفظِ وحی کا اطلاق کیا جاسکتاہے، مگر یہ وحی تشریعی نہیں۔
چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مذکور واقعہ میں بھی لفظِ وحی اس معنیٰ کو متضمن ہے وحی تشریعی کو نہیں، جیساکہ درج ذیل روایات تفسیریہ سے بھی بخوبی معلوم ہورہاہے:
قال اللہ تعالیٰ في القرآن الکریم: إِذْ أَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّكَ مَا يُوحَى أَنِ اقْذِفِيهِ فِي التَّابُوتِ فَاقْذِفِيهِ فِي الْيَمِّ ۔ الآية (طه: ۳۸، ۳۹)
وقال تعالیٰ: وَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْل ۔ الآ ية (النحل:۶۸)۔
وفي التفسیر المظھري: أوحينا إلى أمك بإلھام أو في المنام أو على لسان بنى في وقتھا ٲو ملك (لا على وجه النبوة) كما ٲوحى ٳلى مريم- (فائدة) الوحى والنبوة التي التشريع مختص بالأنبياء وهم الرجال فحسب وهى التي انقطعت وختمت بخاتم النبيين محمد صلى الله عليه وسلم- واما الوحى الذي ليس للتشريع سواء كان بطريق الإلهام او بكلام الملائكة كما كان لمريم فغير مختص بالأنبياء- بل يكون للاولياء ايضا اھ (۶/۱۳۷) واللہ أعلم بالصواب!