سیرت انبیاء کرام علیہم السلام

حضرت خضر علیہ السلام کا تعارف و مقام

فتوی نمبر :
60091
| تاریخ :
2009-12-25
تاریخ / سیرت / سیرت انبیاء کرام علیہم السلام

حضرت خضر علیہ السلام کا تعارف و مقام

محترم جنا ب مفتی صاحب ! کیا فرماتے مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ :
(1)۔ حضرت خضرؑ کون ہیں ، کیا ولی ہیں یا نبی ؟
(2)۔ کیا اس بات کی کوئی حقیقت ہے کہ حضرت خضر نے آبِ حیات نوش فرمایا تھا اور وہ ابھی تک زندہ ہیں اور لوگوں کی رہنمائی کر رہے ہیں ؟
(3)۔ حضرت موسیؑ جو کہ بلاشبہ جلیل القدر نبیوں میں سے ہیں ، صرف ایک نبی ہی نہیں، بلکہ رسول بھی ہیں، اور اللہ کے رسولوں کی فہرست میں بڑے پائے کے تھے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مو سیؑ ،حضرت خضرؑ سے ملتے ہیں تو حضرت کے علم کے برابر ( ان کا علم) نہیں پہنچ سکا ، یہ بات بہت ہی واضح ہے قرآنِ پاک کے اندر کہ حضرت خضرؑ حضرت موسیٰؑ سے زیادہ علم رکھنے والے تھے، اگر حضرت خضرؑ ایک انسان ہوتے ، یا ایک ولی اللہ بھی ہوتے، تب بھی علم کی رو سے حضرت موسیؑ سے اعلیٰ نہیں ہو سکتے، اگر حضرت خضر ؑ نبی بھی ہوتے، تب بھی حضرت موسیٰؑ جیسے ایک رسول سے بڑھ کر ان کا علم نہیں ہو سکتا، براہِ کرم آپ وضاحت فرمائیں کہ حضرت خضرؑ کا حضرت موسی سے بڑے درجے کا عالم ہونا کیسے ممکن ہے ؟اس لۓ کہ حضرت موسیٰؑ کا حضرت خضرؑ سے ملنے کا جو قرآن میں مذکور ہے اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان کا علم زیادہ ہے۔
(4)۔ وہ کون تھا جس نے حضرت سلیمان ؑ کے حکم پر ملکہ بلقیس کے تخت کو لے آیا تھا ایک لمحہ بھر میں، کیا وہ ایک نبی تھا ، یا ولی ، یا کوئی عالم فاضل ؟ قرآنِ پاک اس کی وضاحت کرتاہے کہ کس وجہ سے اس کو ہزاروں کلومیٹر دور سے اس تخت کو لاسکا تھا ایک آن میں ، قرآن کہتا ہے جس نے وہ تخت لایا تھا ،اس کے پاس کتاب (قرآن ) کا علم تھا ، اب سوال اٹھتا ہے آج ہزاروں علماء ،فضلاء مفتیانِ کرام ،محدثین، مفسرین وغیرہ کے ہوتے ہوئے کوئی بھی اس کی طاقت نہیں رکھتا تو وہ شخص کس طرح کا علم رکھتا تھا جس کی بناء پر وہ ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے سے ایک آن میں وہ تخت لائے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱)۔ جمہور علماء کی رائے یہی ہے کہ حضرت خضر ؑ اللہ کے نبی ہیں اور متعدد آیاتِ قرآنیہ و احادیثِ نبویہ سے ان کا نبی ہونا معلوم ہوتا ہے ۔
(2)۔ اگرچہ ان کے بارے میں ایسے اقوال ملتے ہیں ، مگر ان کے وجود پر نہ دنیا کا کوئی فائدہ موقوف ہے اور نہ ہی آخرت کی کامیابی کا مدار اس پر ہے ، اس لۓ اس قسم کی باتوں کے پیچھے پڑنے کے بجائے فرائضِ شرعیہ سیکھنے کا اہتمام چاہیۓ۔
(3)۔ اور"و فوق کل ذی علم علیم"کے قرآنی فرمان کے مطابق بعض جزوی علوم جیسے تکوینی امور سے متعلق علم میں حضرت خضرؑ کا حضرت موسیؑ سے بڑھا ہوا ہونا خود قرآن کریم سے ثابت ہے ، یہ حضرت موسیؑ کی کلی فضیلت پر موجبِ قدح نہیں ، جیسا کہ کسی نبی کی موجودگی میں کسی شخص کا کھیتی باڑی ،نجاری ،زرگری ،صنعت گری وغیرہ امور دنیویہ میں زیادہ ماہر اور اعلم ہونا ، یہ اس نبی کی شان کو کم کرنے کا باعث نہیں ۔
(4)۔ یہ حضرت سلیمان ؑ کا وزیر "آصف ابن برخیا" تھا اور اس کو اسمِ اعظم معلوم تھا جس کی برکت سے بطورِ کرامت اس نے یہ امر انجام دیا اور اس طرح خرقِ عادت آج تک بہت سے انبیاء ،صلحاء سے سرزد ہوچکی ہیں ،جیسا کہ حضور ﷺ کا معراج پر جانا اور حضرت عمر کا مسجد میں منبر پر بیٹھ کر ہزاروں میل کے فاصلہ پر لشکر کو ہدایات دینا وغیرہ وغیرہ ، بزرگانِ دین کے سوانح میں درج ہیں ، اس لۓ اس جیسے کسی واقعہ کو دیکھ کر علماء پر معترض ہونا اپنی کوتاہ بینی ہے، اس کو اہل اللہ کی کوتاہی قرار دینا ناواقفیت پر مبنی ہے جس سے آئندہ کیلۓ احتراز اور اوامرِ شرعیہ بجا لانے کا اہتمام چاہیۓ۔

مأخَذُ الفَتوی

في تفسیر روح المعانى : ﴿آتَيْناهُ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنا﴾ قيل المراد بها الرزق الحلال و العيش الرغد ، و قيل العزلة عن الناس و عدم الاحتياج إليهم و قيل طول الحياة مع سلامة البنية ، و الجمهور على أنها الوحي و النبوة و قد أطلقت على ذلك في مواضع من القرآن ، و أخرج ذلك ابن أبي حاتم عن ابن عباس ، و هذا قول من يقول بنبوته عليه السلام و فيه أقوال ثلاثة ، فالجمهور على أنه عليه السلام نبي و ليس برسول ، و قيل هو رسول ، و قيل هو ولي و عليه القشيري و جماعة ، و المنصور ما عليه الجمهور. و شواهده من الآيات و الأخبار كثيرة و بمجموعها يكاد يحصل اليقين ، و كما وقع الخلاف في نبوته وقع الخلاف في حياته اليوم فذهب جمع إلى أنه ليس بحي اليوم اھ(8/ 302)۔
و فیه ایضا : ثم إن الذي أميل إليه أن لموسى -عليه السّلام- علما بعلم الحقيقة المسمى بالعلم الباطن و العلم اللدني إلا أن الخضر أعلم به منه و للخضر عليه السّلام سواء كان نبيا أو رسولا علما بعلم الشريعة المسمى بالعلم الظاهر إلا أن موسى عليه السّلام أعلم به منه فكل منهما أعلم من صاحبه من وجه ، و نعت الخضر عليه السّلام في الأحاديث السابقة بأنه أعلم من موسى عليه السّلام ليس على معنى أنه أعلم منه من كل وجه بل على معنى أنه أعلم من بعض الوجوه و في بعض العلوم اھ(8/331،332)۔
و فیه ایضا : قالَ الَّذِي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْكِتابِ فصله عما قبله للإيذان بما بين القائلين و مقالتيهما و كيفيتي قدرتيهما على الإتيان به من كمال التباين أو لإسقاط الأول عن درجة الاعتبار. و اختلف في تعيين هذا القائل فالجمهور و منهم ابن عباس و يزيد بن رومان و الحسن على أنه آصف بن برخيا بن شمعيا بن منكيل ، و اسم أمه باطورا من بني إسرائيل كان وزير سليمان على المشهور اھ(10/203)۔
و فیه ایضا : قيل : كان ذلك العلم باسم اللّه تعالى الأعظم الذي إذا سئل به أجاب ، و قد دعا ذلك العالم به فحصل غرضه ، و هو يا حي يا قيوم و قيل يا ذا الجلال و الاكرام و قيل الله الرحمن و قيل : هو بالعبرانية آهيا شراهيا و أخرج ابن جرير و ابن أبي حاتم عن الزهري أنه دعا بقوله : يا الهنا وإله كل شيء الها واحدا لا إله إلا أنت ائتني بعرشها الخ(10/204)۔
و فیه ایضا : (فلمارآہ الخ) الرابع أن ظاهر قوله عليه السلام فيما بعد هذا من فضل ربي الخ يقتضي أن ذلك الخارق قد أظهره الله تعالى بدعائه عليه السلام اه و للمناقشة فيه مجال و اعترض على هذا القول بعضهم بأن الخطاب في آتيك يأباه فان حق الكلام عليه أن يقال : ان آتي به قبل أن يرتد إلى الشخص طرفه مثلا و قد علمت دفعه و بأن المناسب أن يقال فيما بعد فلما أتي به دون فلما رآه الخ و أجيب عن هذا بان قوله ذاك للاشارة إلى أنه لاحول و لا قوة له فيه و لعل الأظهر أن القائل أحد اتباعه و لا يلزم من ذلك أنه عليه السلام لم يكن قادرا على الاتيان به کذلك فان عادۃ الملوك تکلیف اتباعھم بمصالح لھم لایعجزھم فعلھا انفسھم فلیکن مانحن فیه جاریا علی ھذہ العادة و لایضر فی ذلک کون الغرض مما یتم بالقول و ھو الدعاء و لایحتاج الی اعمال البدن و اتعابه کما لایخفی اھ (10/203،204)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60091کی تصدیق کریں
0     4342
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدہ کا نام

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   سیرت انبیاء کرام علیہم السلام 4
  • نزول عیسیٰ کے بعد آپؑ پر وحی نازل کا ہونے کا مطلب

    یونیکوڈ   اسکین   سیرت انبیاء کرام علیہم السلام 0
  • بائیل میں ذکر کیے گئے انبیاء کرام کا تذکرہ

    یونیکوڈ   اسکین   سیرت انبیاء کرام علیہم السلام 0
  • کیا (علیہ السلام ) صرف انبیاء کرام کے لئے استعمال ہوتا ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سیرت انبیاء کرام علیہم السلام 0
  • کیا حضرت عیسیٰ ؑ حضورﷺ کے امتی ہونگے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سیرت انبیاء کرام علیہم السلام 0
  • کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلمان تھے؟

    یونیکوڈ   انگلش   سیرت انبیاء کرام علیہم السلام 0
  • حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے وقت نبی ہوں گے یا امتی؟

    یونیکوڈ   سیرت انبیاء کرام علیہم السلام 0
  • حضرت خضر علیہ السلام کا نبی ہونا اور اب بھی زندہ ہونا اور رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کرناثابت ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   سیرت انبیاء کرام علیہم السلام 0
  • حیات ونزول عیسیٰؑ پر دلیل

    یونیکوڈ   سیرت انبیاء کرام علیہم السلام 0
  • حضرت یوسفؑ کی زلیخا سے شادی کی تحقیق

    یونیکوڈ   سیرت انبیاء کرام علیہم السلام 0
  • حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں کچھ سوالات

    یونیکوڈ   سیرت انبیاء کرام علیہم السلام 0
  • حضرت عیسیٰؑ کا نزول بطورِ نبی ہوگا یا بطورِ امتی؟

    یونیکوڈ   سیرت انبیاء کرام علیہم السلام 0
  • حضرت آدمؑ و حواؑ کی عمر اور انکی صلبی اولاد

    یونیکوڈ   سیرت انبیاء کرام علیہم السلام 0
  • حضرت خضر علیہ السلام کا تعارف و مقام

    یونیکوڈ   سیرت انبیاء کرام علیہم السلام 0
  • کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت آدمؑ کو براہِ راست جنت میں رہنے کا حکم ثابت ہے؟

    یونیکوڈ   سیرت انبیاء کرام علیہم السلام 0
  • کیا حضرت عیسی علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے؟

    یونیکوڈ   سیرت انبیاء کرام علیہم السلام 0
  • کیا یوسف علیہ السلام کی زلیخا سے شادی ہوئی تھی ؟

    یونیکوڈ   سیرت انبیاء کرام علیہم السلام 0
  • حضرت نوح علیہ السلام کی عمر مبارک کتنی تھی ؟

    یونیکوڈ   سیرت انبیاء کرام علیہم السلام 0
  • کیا انبیاء کے اجسام قبور میں بغیر روح کے ہوتے ہے؟

    یونیکوڈ   سیرت انبیاء کرام علیہم السلام 0
Related Topics متعلقه موضوعات