السلام علیکم! حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دوبارہ آئیںگے، اگر وہ دوبارہ آئیں گے تو کس حیثیت میں؟ کیا وہ امتی ہونگے ؟ اگر ہاں تو کیا اسوقت وہ نبی نہیں ہونگے ؟ کیا نبوت ان سے واپس لی جاچکی ہوگی ؟ اگر یہ نبی ہونگے تو نبی امتی کیسے ہو سکتا ہے؟ اور اگر وہ ہمارے پیغمبر محمد ﷺ کے بعد بطور نبی آئیں تو ختم نبوت کے عقیدہ کا کیا ہو گا؟ پلیز کلیئر موقف اور فتوی جاری فرمائیں۔
واضح ہو کہ ختم نبوت کا تقاضا اور مفہوم و معنی یہ ہے کہ رحمت دو عالمﷺکے بعد نئے سرے سے کسی کو نبوت و رسالت نہیں ملے گی،اور حضرت عیسی علیہ السلام حضور ﷺ سے پہلے کے نبی اور رسول ہیں، ان کو آپﷺ سے پہلے نبوت مل چکی ہے اور وہ قرب قیامت میں نبی کے وصف پر باقی رہتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے امتی بن کر اور آپﷺ کی شریعت کے متبع ہو کر تشریف لائیں گے۔ اب ان کے آنے سے انبیاء کے شمار میں کوئی اضافہ نہ ہوگا، لہٰذاان کی تشریف آوری نہ ختم نبوت کے منافی ہے اور نہ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نبی ہونے کے وصف کے خلاف ہے۔
وفي سنن ابن ماجة: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم-: «فيكون عيسى ابن مريم عليه السلام في أمتي حكما عدلا، وإماما مقسطا، يدق الصليب، ويذبح الخنزير، ويضع الجزية، ويترك الصدقة اھـ (ص:۲۸۸)۔
في فتح الملھم: قوله ’’حکما‘‘الخ ٲي حاکما، والمعنی ٲنه ینزل حاکما بھذہ الشریعة، فإن ھذہ الشریعة باقية لا تنسخ، بل یکون عیسی حاکما من حکام ھذہ الأمة، ولا یکون نزوله من حیث ٳنه نبي مستقل، کما کان قد بعث قبل في بني ٳسرائیل، قال العلامة السندي ۔ رحمه اللہ ۔ قوله: حکما ٲي حاکما، وفیه تنبیه علی ٲنه لا يأتي علی أنه نبي وٳن کان نبیا في الواقع اھـ (۲/۲۸۵)۔
وفي عقیدۃ الإسلام للعلامة الکشمیري: واعلم ٲنه ختمت النبوۃ بمحمد رسول اللہ - صلی اللہ علیه وسلم - وٲجمعت الأمة علیه ٳجماعا قاطعا، وقد ٲجمعت ٲیضا علی نزول عیسی ۔ علیه السلام ۔ من السماء فذھبوا یفسرون قوله ۔ صلی اللہ علیه وسلم ۔ ٳن الرسالة والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعد ولا نبي، فقال الأکثرون إن المراد ٲنه لا ینبأ ٲحد بعدہ، وعیسی ۔ علیه السلام ۔ ممن نبئ قبله اھـ (ص:۳۱۹) ـــــــــــــــــــــــــــــــــ واللہ أعلم بالصواب!