میرا سوال یہ ہے کہ اگر انبیاء کرام اور شہداء کی ارواح علیین میں ہوتی ہیں، تو کیا ان کا جسم قبور میں روح کے بغیر ہوتا ہے؟ براہِ کرم صحیح عقیدہ مفصل، مؤثر اور مدلل انداز سے واضح فرما دیں، تاکہ میرا اشکال دور ہوجائے، جزاک اللہ خیر، کیونکہ میں حالتِ متذبذب میں ہوں، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
انبیاءِ کرام علیھم السلام اور شھداء کی ارواح اگرچہ علیین میں ہوتی ہیں، لیکن ان ارواح کا اپنے اجسام کے ساتھ ایک قسم اتصال اور تعلق رہتا ہے، اور یہ تعلق خاص اوقات میں زیادہ بھی ہوجاتا ہے، لہذا کوئی تعارض نہیں۔
کما فی الفتاوی الحدیثیة: (لانہ یسلم علی قبور الانبیاء والشھداء وازواجھم فی اعلیٰ علیین، ولکن لھا مع ذلک اتصال سریع بالبدن لایعلم کنھہ الا اللہ تعالیٰ اھ (14)۔
وفی شرح الصدور: (ارواح المؤمنین فی علیین) وارواح الکفار فی سجین، ولکل روح بجسدھا اتصال معنوی لایشبہ الاتصال فی الحیوٰۃ الدنیا، بل اشبہ شیء بہ حال النائم وان کان ھو اشد من حال النائم اتصالاً اھ (239)۔