کیا ظہر اور عصر کی نماز مسافر ہونے کی حالت میں ایک ساتھ ادا کی جا سکتی ہے؟ اگر نماز ادا ہو سکتی ہے تو کن شرائط پر؟ اور کن مسالک میں اس کی اجازت ہے؟ مجھے ۱۲ اپریل کو ملک سے باہر ۳ دن کے لیے جانا ہے، اس لیے جلد از جلد جواب دے کر ممنون ہوں۔
سفر یا کسی اور عذر کی وجہ سے دو نمازوں کا ایک ہی وقت میں پڑھنا جائز نہیں، بلکہ حرام ہے، البتہ جمع حقیقی کے بجائے جمع صوری کر لی جائے تو یہ شرعاً بھی جائز ہے اور جمع صوری یہ ہے کہ ظہر کو مؤخر کر کے اس کے اخیر وقت میں اور نمازِ عصر کو اس کے ابتدائی وقت میں پڑھے اسی طرح نمازِ مغرب کو آخر وقت میں اور عشاء کو اوّلِ وقت میں پڑھے تو اس کی شرعاً بھی اجازت ہے اور دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت پر ادا ہو جائیں گی۔
ففی الدر المختار: (ولا جمع بين فرضين في وقت بعذر) سفر ومطر خلافا للشافعي، وما رواه محمول على الجمع فعلا لا وقتا اھ (1/ 381)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: وما رواه) أي من الأحاديث الدالة على التأخير كحديث أنس «أنه - صلى الله عليه وسلم - كان إذا عجل السير يؤخر الظهر إلى وقت العصر فيجمع بينهما، ويؤخر المغرب حتى يجمع بينها وبين العشاء» اھ (1/ 381) واللہ أعلم بالصواب!