۱۔یہاں سعودی عرب میں کچھ لوگ فجر کی سنتوں کو فرض نماز کے بعد ادا کرتے ہیں ، براہِ کرم ہمیں بتائیں کیا یہ درست ہے یا ہمیں اشراق کے وقت ادا کرنا چاہیۓ؟
۲۔دو آدمیوں کی نماز کی صورت میں جبکہ ایک امام اور ایک مقتدی ہو ، اگر کوئی تیسرا آدمی آئے اور نماز میں شریک ہو جائے تو پھر پہلے والے مقتدی پیچھے چلا جائے گا ، براہِ کرم یہ بتائیں کہ کتنے قدم پہلا مقتدی پیچھے جا سکتا ہے اور کتنے قدم پیچھے جانے کے لۓ لے سکتا ہے؟
۱۔عند الاحناف سنتوں کی قضاء نہیں، البتہ فجر کی سنتوں کی زیادہ تاکید منقول ہے، اس لۓ اگر کسی کی تنہاء سنتیں رہ گئی ہوں تو بوقتِ اشراق تا زوال انہیں پڑھ سکتا ہے، اس کے بعد نہیں۔
۲۔ایسی صورت میں اس پہلے مقتدی کو پچھلی صف تک ،الٹے پاؤں واپس آنے کی اجازت ہے، اس سے زائد نہیں۔
فی حاشية ابن عابدين : (قوله و لا يقضيها إلا بطريق التبعية إلخ) أي لا يقضي سنة الفجر إلا إذا فاتت مع الفجر فيقضيها تبعا لقضائه لو قبل الزوال ؛ و ما إذا فاتت وحدها فلا تقضى قبل طلوع الشمس بالإجماع ، لكراهة النفل بعد الصبح و أما بعد طلوع الشمس فكذلك عندهما . و قال محمد : أحب إلي أن يقضيها إلى الزوال كما في الدرر . (2/ 57)۔