نمازِ فرض بغیر جماعت کے، یا سنتیں جب پڑھی جائیں تو اس میں قرأت کتنی آواز سے کرنی چاہیۓ ؟
محتاط قول یہی ہے کہ منفرد اتنی اونچی آواز سے تلاوت کرے کہ جسے وہ خود سن سکے ، یعنی آواز اس کے کانوں تک جائے ، البتہ اگر آواز کانوں تک نہ بھی پہنچے اور ادائیگئیِ کلمات درست ہوگئی تو اس سے بھی نماز درست ادا ہو جائےگی۔
فی الدر المختار : (و) أدنى (الجهر إسماع غيره و) أدنى (المخافتة إسماع نفسه) الخ (1/ 535)۔
و فی حاشية ابن عابدين : فقد ظهر بهذا أن أدنى المخافتة إسماع نفسه أو من بقربه من رجل أو رجلين مثلا ، و أعلاها تصحيح الحروف كما هو مذهب الكرخي اھ (1/ 535)۔