ملک میں موجود قانون اور حکم کی صورتحال کے باعث اگر آپ جماعت کے ساتھ اپنی نماز ادا کرنے کے لۓ باہر جاتے ہیں خصوصاً فجر کے وقت ، تو آپ کو لوٹا جاسکتا ہے، کیونکہ ہماری گلیاں محفوظ نہیں ہیں،اس بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا کوئی آدمی اکیلا گھر پر نماز ادا کر سکتا ہے ؟
عام طور پر ایسا بہت کم اور وہ بھی کبھی کبھار ہوتا ہے ، اس لۓ محض اس شک و شبہ کی بناء پر ترکِ جماعت سے احتراز چاہیۓ ، تاہم اگر کسی خاص علاقہ میں یہ سلسلہ رواج پذیر ہو ، اور نمازِفجر کے وقت نکلنے والوں کے ساتھ ہی اس طرح کے حادثات رونما ہوتے ہوں ، تو اس کے لۓ اولاً تو یہ چاہیۓ کہ نماز کے لۓ جاتے وقت اپنے ساتھ مال وغیرہ لیکر نہ نکلیں اور اگر مال نہ ہونے کی صورت میں تشدد کا نشانہ بننا پڑتا ہو ، تو پھر گھر میں پڑھنے کی بھی گنجائش اور اجازت ہے، ورنہ نہیں۔
في الدر المختار : (فلا تجب على مريض(إلى قوله) (و لا على من حال بينه و بينها مطر و طين (إلى قوله) و خوف على ماله ، أو من غريم أو ظالم (1/ 555)۔
و في حاشية ابن عابدين : تحت (قوله أو ظالم) يخافه على نفسه أو ماله اھ(1/ 556)۔