احکام نماز

وتر میں دعاء بالجہر کا حکم

فتوی نمبر :
13337
| تاریخ :
2011-08-25
عبادات / نماز / احکام نماز

وتر میں دعاء بالجہر کا حکم

علماءِ دیوبند ’’دعاء بالجہر فی الوتر‘‘ کے بارے میں کیا کہتے ہیں، چونکہ بعض احباب کا کہنا ہے کہ دعاء بالجہر وتر میں سنتِ رسول ہے , جو دیوبند کے علماء نہیں کرتے اور امام صاحب کا کیا قول ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

دعاءِ قنوت بھی دعا ہے اور قرآن و سنت کی روشنی میں دعا کے اندر آہستہ پڑھنا ہی افضل ہے اور علماء دیوبند کا یہی مسلک ہے، البتہ تعلیماً اس کا بلند آواز سے پڑھنا تاکہ مقتدی اس کو یاد کر لیں درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی اعلاء السنن : عن النبیﷺ أنہ قال خیر الدعاء و فی روایة خیر الذکر الخفی (قوله النبی النبیؐ) الحدیث لعمومه یدل استحبابه اخفاء القنوت فأنه دعاء کسائر الأدعیة و به نقول فی الوتر اھ (۶/ ۹۳)-
و فی الخانیه : و قیل إن کان غالب القوم لا یعلمون دعاء القنوت بجهر الإمام لیتعلم القوم روی أن رسول اللہ صلی اللہ علیه و سلم کان یجهر و الصحابة رضی اللہ عنهم تعلموا دعاء القنوت من قرائته اھ (۱/۲۴۵)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
آفتاب عبد الغفار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 13337کی تصدیق کریں
0     579
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات