احکام نماز

کیا قضاء نماز کو وقتی نماز سے پہلے پڑھنا لازم ہے؟

فتوی نمبر :
1385
| تاریخ :
2005-09-10
عبادات / نماز / احکام نماز

کیا قضاء نماز کو وقتی نماز سے پہلے پڑھنا لازم ہے؟

السلام علیکم! میں نے سنا ہے اگر پانچ نمازوں میں ایک نماز قضاء ہو جائے یعنی میں نے فجر ادا کی اور ظہر ادا نہیں کی، اب عصر کا وقت ہو گیا تو کیا پہلے ظہر پڑھنا لازمی ہوگا یا عصر پڑھنے کے بعد ظہر ادا کرنی ہوگی؟ میں نے سنا ہے اگر پہلی کوئی بھی نماز نکل جائے اور دوسری نماز کا وقت آجائے یعنی فرض نماز کھڑی ہو رہی ہو تو اُس کو چھوڑ دو پہلے پچھلے نماز کو ادا کرو بعد میں اُس کو جس کا وقت ہو رہا ہے، کیا یہ بات صحیح ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ سوال میں مذکو رمسئلہ ترتیب کے لیے ہے، یعنی اس شخص کے لیے جس کے ذمہ بلوغت کے بعد سے چھ سے زائد نمازیں قضاء نہ ہوں، لہٰذا سائل بھی اگر اس طرح کا صاحبِ ترتیب ہو تو اس کے لیے یہ حکم ہے کہ اگر اس سے مثلاً ظہر چھوٹ جائے اور نماز عصر کا وقت ہو جائے تو اسے چاہیے کہ پہلے ظہر کی قضاء پڑھے اور اس کے بعد وقتیہ یعنی عصر ادا کرے۔ اگرچہ اس دوران جماعت کی نماز ختم ہی کیوں نہ ہو جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفتاوى الهندية: الترتيب بين الفائتة والوقتية وبين الفوائت مستحق، كذا في الكافي حتى لا يجوز أداء الوقتية قبل قضاء الفائتة، كذا في محيط السرخسي. (1/ 121)
وفی حاشية ابن عابدين: لو خاف فوت جماعة الحاضرة قبل قضاء الفائتة، فإن كان صاحب ترتيب قضى، وإن لم يكن فهل يقضي ليكون الأداء على حسب ما وجب اھ (2/ 50) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد منور صفدر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 1385کی تصدیق کریں
0     722
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات