اقساط پر کاروبار کرنا کیا جائز ہے ؟ اگر جائز ہے تو کن احادیث یا آیات سے ثابت ہوتا ہے؟
قسطوں پر خرید و فروخت مندرجہ ذیل چار شرطوں کے ساتھ شرعاً بھی جائز ہے، ورنہ نہیں۔
(1) :پہلی شرط مجلس عقد میں یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہو گا ۔
(۲): ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے ۔
(۳) :یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل کتنی قسطیں ہونگی۔
(۴): کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ مشروط نہ ہو۔
کما في سنن الترمذي: عن أبي هريرة قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة» و في الباب عن عبد الله بن عمرو، وابن عمر، وابن مسعود: «حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح» والعمل على هذا عند أهل العلم، وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما اھ (3/ 525)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0