احکام نماز

کلب میں جانے کی بنا پر دو فرض نمازوں کو ایک وقت میں پڑھنا

فتوی نمبر :
15486
| تاریخ :
2012-05-29
عبادات / نماز / احکام نماز

کلب میں جانے کی بنا پر دو فرض نمازوں کو ایک وقت میں پڑھنا

کیا جمع بین الصلاتین کر سکتے ہیں، جم (کلب) جانے کی عذر کے بنا پر ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بلاعذر دو نمازوں کو ایک وقت میں پڑھنا ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے اور کلب جانا شرعاً کوئی عذر نہیں، اس لئے اس کی وجہ سے دو نمازوں کو ایک وقت میں پڑھنا درست نہیں ، اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی سنن الترمذي : عن ابن عباس ، عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من جمع بين الصلاتين من غير عذر فقد أتى بابا من أبواب الكبائر . (1/ 259)-
و فی موطأ مالك رواية محمد بن الحسن الشيباني : قال محمد : بلغنا عن عمر بن الخطاب أنه «كتب في الآفاق ، ينهاهم أن يجمعوا بين الصلاتين ، و يخبرهم أن الجمع بين الصلاتين في وقت واحد كبيرة من الكبائر» اھ(ص : 82)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید وزیر رحمن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 15486کی تصدیق کریں
0     445
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات