احکام نماز

قضاء نماز کے لیے کوئی وقت متعین نہیں

فتوی نمبر :
15757
| تاریخ :
2012-06-20
عبادات / نماز / احکام نماز

قضاء نماز کے لیے کوئی وقت متعین نہیں

میں نے قضاءِ العمری پڑھنی ہے، اگر کوئی نماز قضاء ہے تو کیا صرف فجر کے وقت پڑھنی ہوگی یا کسی اور نماز سے قبل یا بعد میں بھی پڑھ سکتا ہوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قضاء نماز کے لیے کوئی وقت متعین نہیں، اس لیے تین مکروہ اوقات (طلوع آفتاب، غروب آفتاب اور زوال) کے اوقات کے علاوہ جب چاہے قضاء نماز پڑھی جا سکتی ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی البحر الرائق: (الترتیب بین الفائتة) القلیلة وهی مادون ست صلوات (و) بین (الوقتیة) المتسع وقتها مع تذکر الفائتة لازم (إلی قوله) لأنه لو وجب الترتیب فیها لوقعوا فیها حرج عظیم وهو مدفوع بالنص اھ (۲/۷۹)
وفیه أیضا: ثم ليس للقضاء وقت معين بل جميع أوقات العمر وقت له إلا ثلاثة وقت طلوع الشمس ووقت الزوال ووقت الغروب فإنه لا تجوز الصلاة في هذه الأوقات اھ (۲/ ۸۶)
وفی الفتاوى الهندية: ثلاث ساعات لا تجوز فيها المكتوبة ولا صلاة الجنازة ولا سجدة التلاوة إذا طلعت الشمس حتى ترتفع وعند الانتصاف إلى أن تزول وعند احمرارها إلى أن يغيب اھ (1/ 52)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
کفایت اللہ جنید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 15757کی تصدیق کریں
0     562
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات