احکام نماز

کیا مردوں کے لیے فقط نماز کے دوران ہی پانچے اوپر رکھنا لازم ہے؟

فتوی نمبر :
1585
| تاریخ :
2005-12-14
عبادات / نماز / احکام نماز

کیا مردوں کے لیے فقط نماز کے دوران ہی پانچے اوپر رکھنا لازم ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں جاننا چاہتا ہوں کہ لوگ اکثر نماز میں شلوار یا پینٹ کے پانچے اوپر اُٹھاتے ہیں اور بعد میں نیچے کرتے ہیں، جبکہ ہمیشہ اُوپر رہنے چاہیے تو کیا صرف نماز کے لیے کرنا صحیح ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شریعت مطہرہ نے مردوں کو اپنے ٹخنے ننگے رکھنے اور پائنچوں کو ٹخنوں سے اوپر رکھنے کا حکم دیا ہے اور اس سے نیچے رکھنے والوں کے متعلق بڑی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں اور یہ حکم عام ہے خواہ حالت نماز ہو یا نہ ہو، تاہم اگر کوئی شخص نماز سے قبل اپنی پینٹ وغیرہ کے پائینچے موڑ کر ٹخنے ننگے کر کے نماز پڑھے تو اس کا یہ عمل بلاشبہ جائز اور درست ہے اور اگر ایسی پینٹ پہننے کا اہتمام کیا جائے جس کے پائنچے ٹخنوں تک ہی پہنچے ہوں اس سے لمبی نہ ہو تو یہ بلاشبہ بہتر وافضل ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی مشكاة المصابيح: عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما أسفل من الكعبين من الإزار في النار» . رواه البخاري (2/ 1241)
وفیها أیضاً: عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا ينظر الله يوم القيامة إلى من جر إزاره بطرا» (2/ 1241)
وفی حاشية ابن عابدين: ويكره للرجال السراويل التي تقع على ظهر القدمين اھ (6/ 351)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حبیب الرحمن جمیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 1585کی تصدیق کریں
0     547
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات