احکام نماز

جریان کے مرض میں نماز روزہ کا حکم

فتوی نمبر :
15961
| تاریخ :
2012-07-22
عبادات / نماز / احکام نماز

جریان کے مرض میں نماز روزہ کا حکم

میرا تعلق طب کے شعبے سے ہے ، اور دبئی کے ایک ہسپتال میں بحیثیت ٹیکنیشن کام کرتا ہوں ، مجھے جریان کا شدید مرض لاحق ہے جس کی وجہ سے میں کافی پریشان ہوں ، ذرا سی سوچ یا عورت کا ایکسرے لیتے ہوئے مجھے مذی یا منی کے قطرے خارج ہوتے ہیں ، اب اس صورت میں نماز کس طرح پڑھوں ؟ دوسرا روزے کس طرح رکھوں ؟ اس صورت میں میرا روزہ قائم رہے گا ؟ برائے مہربانی میری راہ نمائی فرمائیے میں آپ کا شکر گزار رہوں گا ، میرا تعلق حنفی مسلک سے ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اس طرح کسی عورت کے خیال یا اس کا ایکسرا لینے سے منی کا خروج بلاشبہ بیماری ہے ، جس کے علاج کی ضرورت ہے، اس صورت میں منی کا خروج موجبِ غسل بھی نہیں، بلکہ محض ناقضِ وضو شمار ہوگا ، الّا یہ کہ خروجِ منی شہوت کے ساتھ ہو تو پھر یہ موجبِ غسل شمار ہوگا۔
جبکہ دورانِ روزہ قصداً اخراج منی فسادِ صوم کا ذریعہ ہے ، جس سے قضاء لازم ہوتی ہے ، اس لۓ سائل کو چاہیۓ کہ وہ اس قسم کے خیالاتِ باطلہ سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی فکر کرے اور اگر وہ کسی معتمد عالمِ دین متبعِ شریعت شیخِ طریقت سے بیعت ہوکر ، اس کے بتائے ہوئے اعمال کی پابندی کرے تو انشاء اللہ بہت مفید ثابت ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

فی التاتار خانیة : الجنابة یثبت بشیئین أحدهما انفصال المنی عن شهوة اھ (1/153)۔
و فیها أیضًا : و ان كان مذیا لم یفسد (إلی قوله) و اذا نظر إلی أمرأته بشهوة ففی الفتاویٰ العتابیة : و لا یفسد بالنظر إلی فرج امرأته ان أمنی (إلی قوله) وإذا مسها فأمنی یفسد صومه . اهـ (1/372)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 15961کی تصدیق کریں
1     449
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات