میں کچھ دن پہلے قطرآیا ہوں یہاں پر رمضان میں تراویح کے بعد وتر کی جماعت اس طرح ہوتی ہے کہ پہلے 2 رکعت پڑھ کرسلام پھیرلیاجاتاہے پھر تیسری رکعت کیلئےنیت باندھی جاتی ہے تیسری رکعت میں رکوع کےبعد سجدے میں جانے سے پہلےدعا کےلئے ہاتھ اٹھا کردعا مانگی جاتی ہے اور پھر سجدہ کرکے اسی رکعت کے بعد سلام پھردیا جاتا ہے اس طریقہ پر وتر کی جماعت میں شامل ہونا چاہیئے یا نہیں؟
عند الاحناف نماز وتر تین رکعات اور ایک سلام کے ساتھ ہیں، دورکعت پرسلام پھیر کرایک رکعت الگ سے پڑھنا جائز نہیں اور اس سے حنفی المسلک مقتدی کے وتر ادا نہیں ہوں گے،اس لئے حنفی نمازیوں کو چاہیئے کہ نمازِ وتر اپنی الگ جماعت کیساتھ یا پھرانفرادی طور پر ادا کرنے کا اہتمام کریں ۔
ففي الدر: (وصح الاقتداء فيه) ففي غيره أولى إن لم يتحقق منه ما يفسدها في الأصح كما بسطه في البحر (بشافعي) مثلا (لم يفصله بسلام) لا إن فصله (على الأصح)(2/8)۔