احکام نماز

گیس اور قطروں کی بیماری کے مریض کے لۓ ،وضو نماز کے احکامات

فتوی نمبر :
16345
| تاریخ :
2012-08-05
عبادات / نماز / احکام نماز

گیس اور قطروں کی بیماری کے مریض کے لۓ ،وضو نماز کے احکامات

میرے ساتھ ایک مسئلہ ہے کہ میرے پیٹ میں ہر وقت گیس ہوتا ہے ، جس کی وجہ سے میرا وضو ٹوٹ جاتا ہے ، خاص طور پر جب میں نماز کے دوران سجدے میں جاتا ہوں اس وقت خاص طور سے گیس نکلنے لگتا ہے ، میں روکنے کی بہت کوشش کرتا ہوں ، کبھی تو روک پاتا ہوں اور کبھی گرم ہوا نکل جاتی ہے ، کیا میری نماز ہوگی یا نہیں؟ نماز کیسے پڑھوں؟
اور ایک بات ! مجھے پیشاب بہت آتا ہے اور ہر پیشاب کے بعد اس کے ساتھ ایک دو قطرے نکل جاتے ہیں ، تیز چلنے سے ، کسی اونچی جگہ چڑھنے سے، میں کیا کروں ؟ کیا میں ناپاک ہوجاتا ہوں ؟ کیا مجھے غسل کرنا ہوگا ؟ یا مجھے کپڑے تبدیل کرنے ہوں گے ؟ کیا مجھ پر نماز معاف ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو ریح اور گیس کی تکلیف اگر اس قدر ہو کہ وہ اس کی وجہ سے کسی ایک وقت کی نماز ، وضو کرکے طہارتِ کاملہ کے ساتھ نہ پڑھ سکتا ہو ، تو شرعاً وہ معذور ہے وہ ہر وقتیہ نماز کیلۓ ایک وضو کرکے اس سے ، وقت کے اندر فرض و نفل تمام نمازیں پڑھ سکتا ہے ، اور جب وقت نکل جائے تو دوسرے وقت کیلۓ دوسرا وضو کرنا لازم ہوگا ، تاہم اگر ایسی کیفیت نہ ہو ، بلکہ وضو کے ساتھ نماز پڑھنا ممکن ہو ، تو طہارت حاصل کرنے کے بعد نما زپڑھنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار : ( و صاحب عذر من به سلس ) بول لا يمكنه إمساكه ( أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة ) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب و كذا كل ما يخرج بوجع و لو من أذن و ثدي و سرة ( إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة ) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ و يصلي فيه خاليا عن الحدث ( و لو حكما ) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم ( و هذا شرط ) العذر ( في حق الابتداء و في ) حق ( البقاء كفي وجوده في جزء من الوقت ) و لو مرة ( و في ) حق الزوال يشترط ( استيعاب الانقطاع ) تمام الوقت ( حقيقة ) لأنه الانقطاع الكامل اھ(1/ 305)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
طارق محمود یوسف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 16345کی تصدیق کریں
0     1054
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات