حضرت اگر جماعت کے ساتھ نماز میں آدمی کسی رکن میں امام کے شریک نہ ہو، جیسے امام سجدے سے سر اُٹھا لے اور مقتدی ابھی سجدے میں گیا ہی نہیں، اور امام کے سجدے سے اُٹھ جانے کے بعد اس نے سجدہ کیا، اسی طرح جلسہ، قومہ وغیرہ تو کیا ایسے شخص کی نماز ہو جائےگی یا نہیں؟ مہربانی فرما کر وضاحت فرما دیں۔
اگرچہ اس صورت میں بھی نماز درست ادا ہو جائےگی، مگر کسی مقتدی کا دورانِ ارکان اتنی تاخیر لگانا کہ امام فارغ ہو کر دوسرے، تیسرے رکن میں چلا جائے قطعاً درست نہیں، اس لیے اُسے چاہیئے کہ امام کے ساتھ ساتھ ارکان کی ادائیگی کا اہتمام کرے ، بلاوجہ سستی اور تاخیر سے احتراز کرے۔
ففی حاشية ابن عابدين: (قوله ومتابعته لإمامه في الفروض) أي بأن يأتي بها معه أو بعده، حتى لو ركع إمامه ورفع فركع هو بعده صح، بخلاف ما لو ركع قبل إمامه ورفع ثم ركع إمامه ولم يركع ثانيا مع إمامه أو بعده بطلت صلاته، فالمراد بالمتابعة عدم المسابقة، نعم متابعته لإمامه بمعنى مشاركته له في الفرائض معه لا قبله ولا بعده واجبة كما سيذكره في الفصل الآتي عند قوله واعلم أن مما يبتنى على لزوم المتابعة إلخ، واحترز بالفروض عن الواجبات والسنن، فإن المتابعة فيها ليست بفرض فلا تفسد الصلاة بتركها اھ (1/ 450)
وفی الخانیة علی حاشیة الهندیة: وإن رکع بعد الإمام وسجد بعده جازت صلاته اھ (98/1)
وفی حاشية ابن عابدين: وفي البحر: وحكمه أنه يبدأ بقضاء ما فاته بالعذر ثم يتابع الإمام إن لم يفرغ وهذا واجب لا شرط، حتى لو عكسه يصح اھ (1/ 595) واللہ اعلم