احکام نماز

اذان کی آڈیو ریکارڈنگ چلا کر نماز پڑھنا - پیشاب کے قطروں کی بیماری میں نماز اور حج کیسے ادا کیے جائیں

فتوی نمبر :
1707
| تاریخ :
2005-12-29
عبادات / نماز / احکام نماز

اذان کی آڈیو ریکارڈنگ چلا کر نماز پڑھنا - پیشاب کے قطروں کی بیماری میں نماز اور حج کیسے ادا کیے جائیں

السلام علیکم! مفتی صاحب!
۱۔ میں سعودیہ میں کام کرتا ہوں ،پہلے تو آفس میں باقاعدہ اذان دے کے ، جماعت کرائی جاتی تھی ، لیکن اب کچھ دن سے ایک گھڑی لا کر لگا دی گئی ہے ، اور اُس سے اذان کے آڈیو پلے ہوتی ہے ، اُس کے بعد جماعت کر لی جاتی ہے ، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ ٹھیک طریقہ ہے ؟ اور ایسے میں جماعت میں شامل ہونا ٹھیک ہے ؟ اگر نہیں تو کیا کیا جائے؟ اگر الگ نماز پڑھوں گاتو عجیب سا محسوس ہوگا ، آپ تو جانتے ہی ہونگے سعودیہ کو ؟ براہِ کرم کوئی حل بتا دیں۔
۲۔ جناب محترم! میں اس سال حج پے جا رہا ہوں ، لیکن میرے ساتھ ایک پریشانی یہ ہے کہ باتھ روم سے فارغ ہونے کے بعد کچھ قطرے ۵ ، ۱۰ منٹ بعد اور کبھی کبھی جیسے ہی رکوع میں جاتا ہوں نکل جاتے ہیں ، براہِ کرم کچھ بتا دیں کہ ایسےمیں کیسے حج ادا کیا جائے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔اگرچہ ادائیگئیِ نماز کا تعلق دخولِ وقت کے ساتھ ہے ، یعنی وقت آنے پر اگر اذان نہ بھی دی جائے ، نماز بلاشبہ ادا ہو جائےگی ، اور اذان کا دینا مستقلاً ایک سنت عمل ہے اور سنت کو سنت طریقہ کے مطابق بجا لانے سے ہی اس کی ادائیگی ممکن ہو سکتی ہے ، اور وہ دخولِ وقت کے بعد کسی فاعلِ مختار کا بالفعل اذان دینا ہے ، لہٰذا متعلقہ مسجد کی منتظمہ کمیٹی کا مذکو رعمل خلافِ سنت ہے ، اور وہ مستقل طور پر اس سنت کے تارک ہونے کی بناء پر گناہ گار ہیں ، ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے مذکور ناجائز طرزِعمل سے احتراز کریں۔
۲۔ ایسی صورت میں اولاً تو سائل کو وقتِ نماز سے اتنی دیر پہلے وضو کا اہتمام چاہیۓ کہ اس کے بعد وہ نماز باجماعت میں شامل ہو سکے ،اب اگر دورانِ نماز قطرہ خارج ہو جائے اور اس طرح کبھی کبھار ہوتا ہو ، تو یہ نماز بلاشبہ فاسد ہو جائےگی اور طہارتِ کاملہ کے بعد اس کا اعادہ لازم ہوگا ، جبکہ بکثرت اس طرح ہونے کی صورت میں اوّلاً تو اس بیماری کا مستقلاً علاج چاہیۓ اور ثانیاً یہ کہ پیشاب کے سوراخ میں ٹشو وغیرہ اس طرح رکھ لیا جائے کہ یہ قطرے اس میں جذب ہو جائیں اور اس کے باہر کے حصہ تک رطوبت نہ پہنچ سکے ، اور حج کی ادائیگی بھی اسی طرح بلاشبہ ممکن ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار : (و) سببه (بقاء دخول الوقت و هو سنة) للرجال في مكان عال (مؤكدة) هي كالواجب في لحوق الإثم اھ (1/ 384)۔
و فی حاشية ابن عابدين : ثم اعلم أنه ذكر في الحاوي القدسي ، من سنن المؤذن : كونه رجلا عاقلا ، صالحا ، عالما بالسنن و الأوقات ، مواظبا عليه ، محتسبا ، ثقة متطهرا مستقبلا اھ(1/ 393)۔
فی حاشية ابن عابدين : أما نفس الاستبراء حتى يطمئن قلبه بزوال الرشح فهو فرض و هو المراد بالوجوب ، و لذا قال الشرنبلالي : يلزم الرجل الاستبراء حتى يزول أثر البول و يطمئن قلبه . (إلی قوله) قلت : و من كان بطيء الاستبراء فليفتل نحو ورقة مثل الشعيرة و يحتشي بها في الإحليل فإنها تتشرب ما بقي من أثر الرطوبة التي يخاف خروجها ، و ينبغي أن يغيبها في المحل لئلا تذهب الرطوبة إلى طرفها الخارج اھ (1/ 344)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سہیل احمد رستم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 1707کی تصدیق کریں
0     199
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات