السلام علیکم !مفتیان کرام سے میرا یہ سوال ہے کہ اگر ایک طرف مماتی اِمام ہو اور دوسری طرف بریلوی ہو تو کس کے پیچھے نماز پڑھنا چاہیے ؟
بریلوی اگر شرکیہ عقیدہ کا حامل نہ ہو تو مذکور دونوں ائمہ میں سے کسی کے پیچھے بھی نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے بہتر ہے ۔
ففی البحرالرائق: فالحاصل أنه يكره لهؤلاء التقدم ويكره الاقتداء بهم كراهة تنزيهه، فإن أمكن الصلاة خلف غيرهم فهوأفضل وإلا فالاقتداء أولى من الانفراد. وينبغي أن يكون محل كراهةالاقتداء بهم عند وجود غيرهم وإلا فلا كراهة كما لا يخفى. وأشارالمصنف إلى أنه لو اجتمع معتق وحر أصلي فالحر الاصلي أولى بعدالاستواء في العلم والقراءة كما في الخلاصة اھ(2/437)۔واللہ أعلم بالصواب!