میں ایک پورٹ پر کام کرتا ہوں، ہم اکثر بحری جہاز پر ہوتے ہیں، اور کام کے دوران اگر نماز کا وقت ہو جائے تو وہاں کوئی قریب مسجد بھی نہیں ہے، اور پورٹ سے باہر جانے اور واپس آنے میں بہت ٹائم لگتا ہے، میں عموما اپنے پاس جائے نماز رکھتا ہوں ، اور وضو کی حالت میں ہوتا ہوں ، اور کپٹن سے کہتا ہوں کہ وہ نماز کے لیے ایک کمرہ مہیا کرے، کیا یہ درست ہے؟ وہ مجھے کمرہ دیتے ہیں اور وہاں پر کچھ نازیبا تصویروں والے میگزین بھی ہوتے ہیں، جن کو ڈھک کر نماز پڑھتا ہوں، کیا یہ صحیح ہے؟
سائل کا مذکور طرزِ عمل جائز اور درست ہے، لیکن نمازی زیادہ ہونے کی صورت میں اگر اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ ,جہاز میں پورٹ پر ہی کسی جگہ پانچ وقتہ نماز باجماعت کا اہتمام کیا جائے، تو یہ زیادہ بہتر اور موجبِ ثواب طریقہ ہے ،اور صحت جماعت کے لیے مسجد یا کمرہ کا ہونا ضروری نہیں۔
ففی سنن الترمذي: عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «صلاة الجماعة تفضل على صلاة الرجل وحده، بسبع وعشرين درجة» اھ (1/ 420)