کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں کراچی سے حمید ہوں جو کہ یونیورسٹی کا طالب ہوں، مجھے یہ جاننا ہے کہ اسلام والن ٹائن ڈے کے بارے میں کیا کہتا ہے کہ آیا اس کا منانا جائز ہے یا نہیں؟اور اس کی تاریخی حیثیت کیا ہے؟ براہ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
ویلنٹائن ڈے ایک عیسائی راہب جس کو عشق و محبت کرنےوالوں کا ہیرو بھی کہا جاتا ہے ،اس کی یاد میں ویلن ٹائن ڈے منایا جاتاہے ،جو کہ عیسائیوں کا ایک تہوار اور رسم ہے ۔جس میں عشق ومحبت کرنے والے لڑکے اور لڑکیا ں ایک دوسرے کو تحفہ تحائف دیتے ہیں ،اور یہ رسم چودہ (14)فروری کو منائی جاتی ہے۔
چونکہ یہ خالص غیر مسلم اقوام کا طریقہ اور انہی کی رسم ہے ، لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ مذکور طریقہ سے اجتناب کریں، ورنہ اس کی نحوست سے ایمان خطرہ میں پڑنے کا اندیشہ ہے ۔
اسلام کے اندر صرف دو تہوار ہیں ۔پہلا عید الأضحیٰ، دوسرا عید الفطر۔ ان کے علاوہ کسی اور خاص دن کے منانے کی سے منع فرمایا گیا ہے، بلکہ اسلام سے پہلے دو دن ’’نہروز اور مہرجان‘‘ تہوارکے طور پر منائے جاتے تھے حضورﷺ نے ان سے منع فرمایا اور جو کھیل تماشہ ان میں ہوتا تھا اُس سے بھی منع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ان دونوں کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں، یعنی یوم عید الاضحیٰ اور یوم الفطر۔ پس مسلمانوں کی اس قسم کے تہواروں میں شرکت سے احتراز لازم ہے۔
ففی مشكاة المصابيح: عن أنس قال: قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة ولهم يومان يلعبون فيهما فقال: «ما هذان اليومان؟» قالوا: كنا نلعب فيهما في الجاهلية فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " قد أبدلكم الله بهما خيرا منهما: يوم الأضحى ويوم الفطر ". رواه أبو داود(1/ 452)
و فی مرقاة المفاتيح: قال المظهر: فيه دليل على أن تعظيم النيروز والمهرجان وغيرهما أي: من أعياد الكفار منهي عنه. قال أبو حفص الكبير الحنفي: من أهدى في النيروز بيضة إلى مشرك تعظيما لليوم فقد كفر بالله تعالى، وأحبط أعماله. وقال القاضي أبو المحاسن: الحسن بن منصور الحنفي: من اشترى فيه شيئا لم يكن يشتريه في غيره، أو أهدى فيه هدية إلى غيره فإن أراد بذلك تعظيم اليوم كما يعظمه الكفرة فقد كفر، وإن أراد بالشراء التنعم والتنزه، وبالإهداء التحاب جريا على العادة، لم يكن كفرا لكنه مكروه كراهة التشبه بالكفرة، حينئذ فيحترز عنه اهـ.(3/ 1069)
و فی الدر المختار: (والإعطاء باسم النيروز والمهرجان لا يجوز) أي الهدايا باسم هذين اليومين حرام (وإن قصد تعظيمه) كما يعظمه المشركون (يكفر) قال أبو حفص الكبير: لو أن رجلا عبد الله خمسين سنة ثم أهدى لمشرك يوم النيروز بيضة يريد تعظيم اليوم فقد كفر وحبط عمله اهـ ولو أهدى لمسلم ولم يرد تعظيم اليوم بل جرى على عادة الناس لا يكفر.(6/ 754)