کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
۱۔ بعض اقوام میں یہ رواج ہے کہ جب کسی کے لیے صدقہ کیا جاتا ہے تو اس کے سر پر اس چیز کو گھما کر صدقہ دیتے ہیں ، مثلاً جب بچے کی صحت اور تندرستی کے لیے گوشت صدقہ کرتےہیں ، تو اس صدقہ کو اس بچے کے سر پر گھما کر صدقہ کرتے ہیں اور گوشت کوؤں کو کھلاتے ہیں ، حالانکہ بہت سے مسلمان اس کے مستحق ہیں۔
۲۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بچے کو نظر لگنے سے بچانے کے لیے ، چہرے کے کسی حصہ پر ، مثلاً ماتھے پر ، یا گال پر ٹِک ، یعنی سلائی سے کالا نقطہ لگاتے ہیں ، اب پوچھنا یہ ہے کہ صدقہ کا گوشت سر پر گھمانے کی اور گوشت کوّوں کو کھلانے کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ اور ٹکہ لگانے کی کیا حیثیت ہے ؟ براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
مذکور افعال کی شریعتِ مطہرہ میں کوئی اصل نہیں ، بلکہ ’’ایجادِ جاہلان‘‘ ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
ففی مرقاة المفاتيح : و في رواية لمسلم : (من عمل عملا) أي من أتى بشيء من الطاعات أو بشيء من الأعمال الدنيوية و الأخروية سواء كان محدثا أو سابقا على الأمر ليس عليه أمرنا ، أي : وكان من صفته أنه ليس عليه إذننا بل أتى به على حسب هواه فهو رد اھ(1/ 222)۔