کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں کے لوگوں کا رواج ہے کہ جب کوئی شخص انتقال کر جاتا ہے تو اس کی میت کو قبرستان لے جاتے وقت میت کے ساتھ قرآن اور ایک بوری میں گندم لے جاتے ہیں اور دونوں چیزمیت سے آگے ہوتی ہیں، پھر میت کی تدفین کےبعد گندم کو امام صاحب کے گھر بھیج دیتے ہیں، کیا اس طرح کرنا قرآن و حدیث سے ثابت ہے؟ اور امام صاحب کے منع کرنے کے باوجود اگر گاؤں والے اطاعت نہ کریں تو امام صاحب پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟اور یہ گندم امام صاحب کا وصول کرنا اور استعمال کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟ مفصلاً و مدللاً جواب دیکر ممنون فرمائیں۔
نوٹ: مذکور غلّہ وغیرہ قبرستان تک لے جانا حیلۂ اسقاط کی غرض سے نہیں ہوتا، بلکہ محض ایک رواج ہے جس کی پابندی کی جاتی ہے اور ثواب کی نیت مقصود ہوتی ہے۔
اس طرح گندم لےجانے سے حیلۂ اسقاط مقصود نہ بھی ہو، تب بھی یہ ایک ایسا عمل ہے جس کا قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے کسی قسم کا کوئی ثبوت نہیں، بلکہ یہ ایک رسم اور بدعتِ محض ہے، جس کی بناء پر امام موصوف پر لازم ہے کہ وہ اس مسئلہ کی صحیح صورتِ حال سے عوام کو آگاہ کر کے انہیں سمجھائیں تاکہ وہ بھی اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوں، جبکہ اہلِ محلہ و علاقہ پر بھی لازم ہے کہ جب ایک کام اجر و ثواب اور میت کے ایصالِ ثواب کے لیے کرنا ہے تو اسے اس طرح بجالائیں جس کا شرعاً ثبوت ہونے کے ساتھ ساتھ وہ جائز بھی ہو، تاکہ وہ خود بھی ان کے لیے ذخیرۂ آخرت ثابت ہو سکے۔
ففی حاشية ابن عابدين: وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره. وفيها من كتاب الاستحسان: وإن اتخذطعاما للفقراء كان حسنا اهـ وأطال في ذلك في المعراج. وقال: وهذه الأفعال كلها للسمعة والرياء فيحترز عنها لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى. اهـ. (2/ 240، 241)۔
وفی الفتاوى الهندية: وأما تسويد الخدود والأيدي وشق الجيوب وخدش الوجوه ونشر الشعور ونثر التراب على الرءوس والضرب على الفخذ والصدر وإيقاد النار على القبور فمن رسوم الجاهلية والباطل والغرور، كذا في المضمرات. (1/ 167)۔