کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل یہ رسم چلی آرہی ہے کہ جب کوئی آدمی مرتا ہے تو اس کے دفن کرنے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی لوگ تعزیت کے لیے آتے ہیں اور مردوں میں بھی اور عورتوں میں بھی قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے۔ اور یہ سلسلہ تین دن تک چلتا ہے، اور اس کو ضروری سمجھا جاتا ہے، آیا یہ شریعت کی رو سے جائز ہے یا نہیں؟
تلاوتِ قرآن تعزیت کا حصہ نہیں، اسے تعزیت کا جزء قرار دینا جہالت پر مبنی ہے، اس سے احتراز لازم ہے، مگر عموماً تعزیت کےلیے آنے والے واہی تباہی باتوں میں مشغول ہو جاتے ہیں، اس لیے اگر غیرلازم سمجھتے ہوئے موقع پر کچھ نہ کچھ تلاوت و تسبیح پڑھ کر مرحوم کو ایصالِ ثواب کر دیا جائے تو بہتر اور افضل ہے۔
ففی مشكاة المصابيح: وعن معقل بن يسار المزني - رضي الله عنه - أن النبي - صلى الله عليه وسلم- قال: «من قرأ (يس) ابتغاء وجه الله تعالى غفر له ما تقدم من ذنبه فاقرؤو ها عند موتاكم» . رواه البيهقي في شعب الإيمان اھ(1/ 668)۔
وفی فتح الباری ان المندوبات قد تنقلب مکروھات اذا رفعت عن رتبتھا لان التیامن مستحب فی کل شیء ای من امور العبادات لکن لما خشی ابن مسعود ان یعتقدوا وجوبه اشار الی کراھته (2/33۸)۔
و فی مرقاة المفاتيح: قال الطيبي: وفيه أن من أصر على أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال اھ (2/ 755)۔
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: «من دخل المقابر فقرأ سورة يس خفف الله عنهم يومئذ، وكان له بعدد من فيها حسنات» بحر.(إلی قوله)وفي البحر: من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة كذا في البدائع(2/ 243)
وفی حاشية ابن عابدين: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء و القراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص.(إلی قوله) وقال: وهذه الأفعال كلها للسمعة والرياء فيحترز عنها لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى. اهـ. (2/ 240،241)۔