کیا فرماتے ہیں مفتیان ِکرام درجِ ذیل مسئلہ کے متعلق کہ ہمارے علاقے کوئٹہ قلعہ سیف اللہ کے لوگوں میں ایک رسم رائج ہے کہ: اگر وہاں کسی کا انتقال ہوجائے، تو میت کو دفن کرنے کے بعد لوگ چندہ کرتے ہیں، اور قبرستان میں سات دفعہ دعاء کرنے کو لازم سمجھتے ہیں، اور تین دن تک ہر آدمی کیلئے میت والے گھر میں کھانا پہنچانےکو لازم سمجھتے ہیں، اور حیلۂ اسقاط کے پیسے لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں ، شرعی لحاظ سے ان مسائل کی رہنمائی فرما کر عند اللہ ماجور ہوں!
واضح ہو کہ میت والے گھر میں ایک دن اور ایک رات کا کھانا بھیجنا مستحب عمل ہے، مگراس عمل کو یا تین دن پابندی سے اہلِ میت کے ہاں کھانا بھیجنے کولازم سمجھنا شرعاً درست نہیں ۔
جبکہ تدفین کے بعد میت کیلئے دعائے مغفرت کرنا احادیث مبارکہ سے ثابت ہے، لیکن اس عمل کو بھی سات بار کرنا یا اسکو لازم سمجھنا درست نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مروجہ حیلۂ اسقاط میں بہت سارے مفاسد پائے جاتے ہیں اور صحیح طریقۂ کار پر عمل نہیں کیا جاتا ، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے، جبکہ فقہاء کرام نے حیلۂ اسقاط ایسے شخص کیلئے تجویز فرمایا ہے، جس کی کچھ نمازیں اور روزے وغیرہ اتفاقاً فوت ہوگئے ہوں، اور اسے قضاء کرنے کا موقع نہ ملا ہو، اور موت کے وقت وصیت کی بھی فرصت نہ ملی ہو،جبکہ اس کے ترکہ میں اتنا مال بھی نہ ہو جس سے اسکی فوت شدہ نمازوں اور روزوں وغیرہ کا فدیہ ادا کیا جا سکے، اور اسکی شرائط میں یہ بھی ہے کہ جو رقم کسی کو صدقہ کے طور پر دی جائے، تو اسکو حقیقی طور پر مالک و مختار بنا کر دی جائے، چنانچہ مندرجہ بالا شرائط کے ساتھ اسقاط کرنے سے فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ بھی ادا ہو جائے گا۔
کما فی رد المحتار: و يستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لھم يشبعهم يومھم وليلتھم لقوله ﷺ «اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاء مايشغلهم» حسنه الترمذي و صححه الحاكم۔اھ (6/ 665)
و فی الدر المختار: ويستحب حثيه من قبل رأسه ثلاثا، و جلوس ساعة بعد دفنه لدعاء وقراءة بقدر ما ينحر الجزور و يفرق لحمه۔اھ (2/ 236)