کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں رمضان کے مہینے میں ہر آدمی ایک جانور ذبح کرتا ہے جس کو "عید ا لمیت" کہتے ہیں، اس جانور کی چند خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:
(۱) پہلا یہ کہ ہر آدمی اسے لازمی سمجھتا ہے۔
(۲) دوسرا یہ کہ بعض لکھے پڑھے لوگ ہوتے ہیں وہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ یہ ہم رمضان کی فضیلت کی وجہ سے کرتے ہیں لیکن ان کا مقصد رمضان کی فضیلت نہیں ہوتا جس کا اندازہ اس بات سے لگتا ہے کہ اگر ان سے کہہ دیں کہ اس جانور کی رقم سے غریبوں کو آٹا خرید کر دو یا دوسری اشیاء خرید کر غریبوں میں تقسیم کردو تو یہ لوگ کبھی اس کیلئے تیار نہیں ہوتے۔
(۳) تیسرا یہ کہ بعض لوگوں کا خیال یہ بھی ہے کہ اگر یہ جانور ذبح نہیں کیا تو ان کے آبا ء و اجداد جو مرچکے ہیں ان کو نقصان پہنچائیں گے۔
کیا عید ا لمیت جائز ہے یا نہیں؟ اگر کسی نے محض رمضان کی فضیلت مقصود رکھی ہو تو اس کے لئے یہ کرنا افضل ہے یا چھوڑنا افضل ہے؟ جو لوگ اموات سے نقصان کا یقین رکھتے ہیں ان کیلئے کیا حکم ہے؟ اور کیا ان کے جانور کا گوشت کھانا جائز ہے یا نہیں؟ مدلل جواب دے کر مشکور فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور رسم کا قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر میں کوئی ثبوت نہیں، اس لئے اس کا اہتمام کرنا شرعاً ناجائز اور بدعت ہے، تاہم اگر کسی نے اس قسم کا جانور ذبح کرلیا ہو تو اس کا کھانا اگرچہ جائز ہو مگر اس قبیح رسم کو ختم کرنے کیلئے اس سے احتراز لازم ہے، خصوصاً یہ اعتقاد رکھنا کہ اگر مذکور رسم ادا نہ کی گئی تو مردے ضَرر و نقصان پہنچائیں گے قطعاً غلط، بے اصل اور من گھڑت بات ہے۔
فی المشکوٰۃ: عن عائشۃؓ قالت: ’’قال رسول اﷲ ﷺ من احدث فی أمرنا ہذا ما لیس منہ فہو رد‘‘۔ (ج۱، ص۲۷)-
وعن جابرؓ قال: قال رسول اﷲ ﷺ أما بعد فإن خیر الحدیث کتاب اﷲ وخیر الہدی، ہدی محمد وشرَّ الأمور محدثاتہا وکل بدعۃ ضلالہ۔ (حوالہ بالا)-
وعن ابی ہریرۃؓ قال: قال رسول اﷲ ﷺ إنکم فی زمان من ترک منکم عشر ما اُمر بہ ہلک ثم یأتی زمان من عمل منہم بعشر ما أمر بہ نجا۔(ج۱، ص۳۱)- واﷲ اعلم