جناب مفتی صاحب مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے گاؤں میں ایک رسم عرصہ دراز سے چلی آرہی ہے وہ یہ ہے کہ جب کوئی فوت ہوجاتا ہے تو اس کے بعد عورتیں اس میت والے گھر میں تین دن بعد اور پہلے جمعہ کی رات کو اور 20 دن بعد اور چالیس دن بعد اور پھر سال بعد اور جس دن قبر پختہ کی جاتی ہے سب دنوں میں رات کے وقت جمع ہوجاتی ہیں اور رونا دھونا کرتی ہیں اور مرد حضرات دعا کیلئے جمع ہوتے ہیں اور اس تیجہ، بیسواں اور چالیسواں کی رسم کو لوگ دین سمجھتے ہیں اور اس سے منع کرنے کو بُرا مانتے ہیں اور جو اس میں نہ آئے اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔
برائے کرم تفصیل سے اور وضاحت سے جواب دیں تاکہ لوگ س سے ستفادہ کرتے ہوئے اصل راہ پر آجائیں، اور عورتوں کے اجتماع کے بارےمیں بتائیں کہ اس کی دینی لحاظ سے کیا حیثیت ہے شکریہ۔
مذکور طرزِ عمل کا قرونِ ثلاثہ مشہور لھا بالخیر (یعنی دورِ صحابہ وتابعین اور تبع تابعین) میں ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے بدعت ہے جن سے احتراز لازم ہے ان امور کی بجائے ورثاء میت اور دیگر احباب کو چاہیے کہ انفرادی طور پر نماز، روزہ، صدقہ ، درود اور تلاوت وغیرہ اعمال خیر انجام دیکر ان کا ثواب اموات کو بخش دیا کریں تو یہ جانبین کے لئے باعث خیر ہوگا اور یہی بہتر وافضل ہے۔
فی المرقات: والمتابعة كما تكون فی الفعل تكون فی الترك ایضا فمن واطب علی فعل لم یفعله الشارع فھو متبدع. ص۹۵
وفی المشكوة: عن ابی سعید الخدریؓ لعن رسول الله ﷺ النائحة والمستمعة. رواه ابوداوود ص۱۵۰
وفی الدر: وتكره التعزیر ثانیا وعند القبر وعند باب الدار وفی الرد: لا ینبغی لم عزی مرة أن یعزی مرة أخرٰی. ویكره الجلوس علی باب الدار للتعزیة لانه عمل اھل الجاھلیة وقد نھی عنه الخ. ص ۲۴۱/۲.