کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے خاندان میں یہ رسم زور پکڑتی جا رہی ہے کہ جب کوئی شخص حج یا عمرہ کے لیے جائے تو تمام لوگ اسے پیسے دیتے ہیں کہ وہ ان پیسوں سے وہاں کے کبوتروں کو دانہ ڈالے اور اس کو ثواب بھی سمجھتے ہیں ،قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ کیا ان کا یہ فعل شرعاً درست ہے؟
مذکور عمل اگر چہ جائز ہے، مگر اس کو لازم اور زیادہ باعثِ ثواب سمجھنا اور اسے ایک رسم بنا لینا درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
ففی مرقاة المفاتيح: قال الطيبي: و فيه أن من أصر على أمر مندوب ، و جعله عزما، و لم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال اه (2/ 755)۔
و فی فتح الباری: ان المندوبات قد تنقلب مکروھات اذا رفعت عن رتبتھا لان التیامن مستحب فی کل شیء ای من امور العبادات لکن لما خشی ابن مسعود ان یعتقدوا وجوبه اشار الی کراھته اه (ج2ص338)۔