کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بچے کے ختم ِقرآن کے موقع پر دعوت کرنا اور اس کو ہار وغیرہ پہنانا کیسا ہے جبکہ یہ ایک رسم بھی بن چکی ہے؟
اسی طرح جب کسی کا لڑکا درسِ نظامی سے فارغ ہوتا ہے اور آخری تقریبِ ’’ختم بخاری‘‘ ہوتی ہے تو اس موقع پر بھی دعوت کا ہتمام کیا جاتا ہے اور عزیز و اقارب ہار وغیرہ پہناتے ہیں اور یہ سب کچھ عموماً مساجد ہی میں ہوتا ہے تو کیا یہ طرزِ عمل شرعاً درست ہے؟ جبکہ ایسی تقاریب میں دعوت امیر طلباء تو بآسانی کر لیتے ہیں، لیکن غریب طلباء اپنی عزتِ نفس کو بچانے کےلیےقرض وغیرہ لے کر دعوت کرتے ہیں ، براہِ کرم شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرما ئیں تاکہ بندہ کے متوسّلین کی اصلاح اور معلومات میں اضافہ ہوسکے۔
واضح ہو کہ ختمِ قرآن یاختم بخاری کے موقع پر اپنی حیثیت کے مطابق خوشی کا اظہار اور دعوت کا اہتمام اگرچہ جائز اور مستحسن امر ہے، مگر اس کو رسم بنا لینا جیسا کہ مروّج ہے اور اس کا التزام کرنا اور اسی دن کے ساتھ ہی مخصوص کرکے دعوت کو ضروری سمجھنا ، جو بہت سی منکرات کو بھی مستلزم ہے درست نہیں، اس قسم کے امور سے احتراز چاہیے۔
ففی تفسير القرطبي: عن نافع عن ابن عمر قال: تعلم عمر البقرة في اثنتي عشرة سنة، فلما ختمها نحر جزورا. (1/ 40)۔
و فی الدر المنثور في التفسير بالمأثور: وَأخرج الْخَطِيب فِي رُوَاة مَالك وَالْبَيْهَقِيّ فِي شعب الإِيمان عَن ابْن عمر قَالَ: تعلم عمر الْبَقَرَة فِي اثْنَتَيْ عشرَة سنة فَلَمَّا خَتمهَا نحر جزورا۔(1/ 54)۔
وفی مرقاة المفاتيح: قال الطيبي: وفيه أن من أصر على أمر مندوب ، و جعله عزما، و لم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال۔(2/ 755)۔
و فی فتح الباری ان المندوبات قد تنقلب مکروھات اذا رفعت عن رتبتھا لان التیامن مستحب فی کل شیء ای من امور العبادات لکن لما خشی ابن مسعود ان یعتقدوا وجوبہ اشار الی کراھته (ج2ص338)۔
وفی رد المحتار: وقد صرح بعض علمائنا و غيرهم بكراهة المصافحة المعتادة عقب الصلوات مع أن المصافحة سنة ، و ما ذاك إلا لكونها لم تؤثر في خصوص هذا الموضع، فالمواظبة عليها فيه توهم العوام بأنها سنة فيه ، و لذا منعوا عن الاجتماع لصلاة الرغائب التي أحدثها بعض المتعبدين لأنها لم تؤثر على هذه الكيفية في تلك و إن كانت الصلاة خير موضوع۔(2/ 235)۔