میں جاننا چاہتاہوں کہ اگر ہم صرف تاریخِ پیدائش پر باہر سے کھانا لا کر گھر میں سب گھر والوں کے ساتھ کھائیں اور کوئی پارٹی گانا بجانا یا غیروں کی تقلید نہ کریں تو کیا تاریخ پیدائش منانا گناہ ہے؟ ہم صرف اس لئے مناتے ہیں کہ سب مل کے باہر سے کھانا لاکر کھالیں گے اور کوئی گفٹ دے دیں گے، یہ ایک بہانہ بن جاتاہے بس اور کچھ نہیں، کبھی نہیں بھی کرتے اپنے پے لازم نہیں بنایا اس کو، تو کیا ہم اس سادگی سے تاریخ پیدائش مناسکتے ہیں کہ نہیں؟ کیا حدیث سے ثابت ہے کہ اس طرح گناہ ہے، کیونکہ ہماری سوچ یہ ہے کہ برتھ ڈے منانا گناہ نہیں بلکہ جس طریقہ سے منائی جائے وہ گناہ ہوسکتاہے اسی طرح موبائل استعمال کرنا گناہ نہیں لیکن اگر ہم موبائل پر گانا سنیں تو اس طرح کا استعمال کرنا گناہ ہے؟ مہربانی فرماکر رہنمائی کیجیے؟
واضح ہو کہ برتھ ڈے کا رواج اصل میں مغربی تہذیب کی برآمدات میں سے ہے وہ حضرت مسیح علیہ السلام کا یوم پیدائش بھی مناتے ہیں جبکہ آپﷺ نے دوسری قوموں سے مذہبی اور تہذیبی مماثلت اختیار کرنے کو ناپسند فرمایا ہے اور احادیثِ مبارکہ میں صراحتاً اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے اس لئے سائل اور دیگر مسلمانوں کو ایسے امور سے بچنا چاہیئے جبکہ سبب اور محرک (ولادت) پائے جانے کے باوجود قرآن وحدیث، صحابہ وسلفِ صالحین سے قولاً فعلاً یہ عمل ثابت نہ ہونا بھی دلیلِ منع ہے۔
لہٰذا سائل کو چاہیئے کہ ان تمام پروگراموں سے اجتناب کرے اور اگر کسی وجہ سے کرنا پڑے تو دن تاریخ بدل کر کرلیا کرے تاکہ شبہات سے بچا جاسکے۔
کما جاء فی المشکٰوة: عن سمرة رضی اللہ عنه قال قال رسول اللہﷺ الغلام مرتهن بعقیقة تذبح عنه یوم السابع ویسمی ویحلق رأسه رواه احمد. (۳۶۲)-
وفیها ایضًا: وعن ابن عمر رضی اللہ عنه قال قال رسول اللہﷺ من تشبه بقوم فهو منهم. (صـ ۳۷۵)-