مولانا صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ پانچ وقت کی نمازیں نہ پڑھنے پر کیا کیا وعیدیں ہیں؟
بلا کسی عذر شرعی اور شدید مجبوری کے فرض نماز چھوڑ دینا سخت گناہ ہے، احادیث مبارکہ میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں، چنانچہ ایک حدیث میں حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نماز چھوڑنا آدمی کو کفر سے ملا دیتا ہے، ایک جگہ ارشاد ہے کہ بندہ کو اور کفر کو ملانے والی چیز صرف نماز چھوڑنا ہے، ایک اور جگہ ارشاد ہے کہ ایمان اور کفر کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے، ایک حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضورﷺ نے نماز کا ذکر فرمایا اور یہ ارشاد فرمایا کہ جو شخص نماز کا اہتمام کرے تو نماز اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگی اور حساب پیش ہونے کے وقت حجّت ہوگی اور نجات کا سبب ہوگی اور جو شخص نماز کا اہتمام نہ کرے، اس کے لیے قیامت کے دن نہ نور ہوگا اور نہ اس کے پاس کوئی حجّت ہوگی اور نہ نجات کا کوئی ذریعہ، اس کا حشر فرعون، ہامان، اور ابیّ بن خلف کے ساتھ ہوگا، اس کے علاوہ بھی تارکِ نماز کے لیے بہت سخت وعیدیں احادیث مبارکہ میں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
ففی صحيح مسلم: عن أبي سفيان، قال: سمعت جابرا، يقول: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إن بين الرجل وبين الشرك والكفر ترك الصلاة» اھ(1/ 88)
وفی مشكاة المصابيح: عن عبد الله بن عمرو بن العاص عن النبي صلى الله عليه وسلم: أنه ذكر الصلاة يوما فقال: «من حافظ عليها كانت له نورا وبرهانا ونجاة يوم القيامة ومن لم يحافظ عليها لم يكن له نور ولا برهان ولا نجاة وكان يوم القيامة مع قارون وفرعون وهامان وأبي بن خلف» . رواه أحمد والدارمي والبيهقي في شعب الإيمان اھ (1/ 183)