احکام نماز

دورانِ نماز ہوا خارج ہونے کا وسوسہ ہونا

فتوی نمبر :
22126
| تاریخ :
2014-05-21
عبادات / نماز / احکام نماز

دورانِ نماز ہوا خارج ہونے کا وسوسہ ہونا

مفتی صاحب! میرے ساتھ کچھ عرصے سے ایک مسئلہ درپیش ہے کہ ،مجھے اپنی نماز کے دوران بہت وسوسے آتے ہیں، لیکن بہت عجیب ہے، میری پریشانی بہت بڑھ گئی ہے، مجھے ایسا لگتا ہے کہ میری ہوا خارج ہو رہی ہے, اور نماز ٹوٹ جاتی ہے،میں دوبارہ وضو کرتا ہوں اور نماز دہراتا ہوں، مگر بار بار ایسا ہی لگتا ہے، نماز میں توجہ اسی جانب رہتی ہے کہ ,کہیں میرا وضو نہ ٹوٹ جائے، نماز کو بہت محنت سے مکمل کرنا پڑتا ہے, اور بار بار وضو اور نماز کے دہرانے سے ذہنی تکلیف کا شکا ر ہو چکا ہوں، میں سارا دن میں کھانا بھی بہت کم کھاتا ہوں کہ پیٹ میں نہ کچھ ہو ,اور نہ ہی ہوا خارج ہو، مگر خالی پیٹ رہنے سے بھی مسئلہ حل نہیں ہوا۔
آپ مجھے یہ بتائیں کہ میں کیا کروں ؟ اس وہم کا کیا حل کروں ؟ کئی مرتبہ تو بار بار دہرانے سے نماز کا وقت بھی نکل جاتا ہے اور کئی بار تھک کر بیٹھ جاتا ہوں، شریعت اس مسئلے کا کیا حل بتاتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر محض ہوا خارج ہونے کا وسوسہ ہو تو سائل کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ اُسے چاہیئے کہ وسوسے کی طرف دھیان کیے بغیر سنت طریقے سے وضو وغیرہ کر کے نماز پڑھ لیا کرے ،اور وسوسے کا علاج یہ ہے کہ، اس کی جانب بالکل توجہ نہ دے، اور جب تک ہوا کے خروج کی آواز یا بد بو محسوس ہونے کی صورت میں یقین نہ ہو جائے، نماز نہ توڑے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الاشتباه والنظائر : القاعدة الثالثة اليقين لا يزول بالشك اھ
ودليلها ما رواه مسلم عن أبى هريرة مرفوعاً "إذا وجد أحدكم فى بطنه شيئا فاشكل عليه أخرج منه شئ أم لا فلا تخرجن من المسجد حتى يسمع صوتاً أو يجد ريحاً اھ (١٨٤/١). والله اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ضیاء الرحمن اجمل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 22126کی تصدیق کریں
0     834
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات